1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کی اقتصادی شہ رگ حلب اب لڑائی کا مرکز

شام میں حکومت مخالف جنگ جوؤں نے حلب شہر کے اُن حصوں میں اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں جو حکومتی دستوں کے زیر انتظام ہیں۔ حلب سے ہی 2011ء میں اسد مخالف تحریک کا آغاز ہوا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شامی باغیوں نے مختلف مقامات پر شدید بم باری کی ہے اور اس دوران عام شہریوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

حلب کسی زمانے میں شام کا اقتصادی مرکز ہوا کرتا تھا تاہم اب یہ علاقہ لڑائی کا مرکز بننا ہوا ہے۔ یہ شہر حکومتی دستوں اور باغیوں میں منقسم ہے۔ شہر کا مغربی حصہ شامی فوج جب کہ 2012ء کے وسط سے مشرقی حصے پر باغی قابض ہیں۔

اے ایف پی کے نامہ نگار نے بتایا کہ باغیوں نے علی الصبح اپنی کارروائیوں کا آغاز کیا، جس کے بعد سے فریقین کے مابین شدید لڑائی جاری رہی۔ اس رپورٹ کے مطابق باغی ایک ایسے وقت میں اپنی کارروائیوں میں شدت لائے ہیں جب شامی دستوں کو کمک پہنچانے والا واحد راستہ بند ہو گیا ہے۔ اس راستے کے بند ہونے کی وجہ سے حلب اور ملحقہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت بھی پیدا ہو گئی ہے۔

برطانیہ میں مقیم سیریئن آبزرویٹری نے بھی ان واقعات کی تصدیق کی ہے۔ آبزرویٹری کے رامی عبدالرحمن کے مطابق، ’’ اسد مخالفین نے چار مختلف محاذوں سے اسد کی حامی فوج پر حملے کیے اور ان میں قدیمی شہر کا علاقہ بھی شامل ہے۔‘‘ ان کے بقول پیر کی صبح سے شروع ہونے والی لڑائی ابھی تک جاری ہے اور باغی فی الحال پیش قدمی نہیں کر سکے ہیں کیوں کہ شامی فضائیہ انہیں نشانہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں تین عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ سرکاری ٹیلی وژن نے بتایا ہے کہ باغیوں کے حملوں میں نو عام شہری لقمہ اجل بنے۔ تاہم فریقین کے ان دعوؤں کی آزاد سے ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

شام میں عیدالفطر کے موقع کی مناسبت سے ہونے والے فائر بندی معاہدے کے باوجود لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔ امن معاہدے کی وجہ سے تشدد میں کچھ کمی واقع ہوئی تھی۔ ہفتے کے روز اس میں 72 گھنٹوں کی توسیع کر دی گئی تھی۔ صرف حلب میں ہی نہیں بلکہ شام کے دیگر علاقوں میں بھی تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔

ادلب میں کیے جانے والے فضائی حملوں میں کا سترہ افراد ہلاک ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ آبزرویٹری کے مطابق ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ شمال مغربی ادلب میں یہ فضائی کارروائی دمشق حکومت یا روس میں سے کس کی جانب سے کی گئی۔