1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کو دہشت گردوں سے صاف کرنا ضروری ہے، بشار الاسد

شام کے صدر نے اپنے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ بشار الاسد کے مطابق شام کی سلامتی ان دہشت گردوں کے خاتمے میں مضمر ہے۔

Der syrische Präsident Assad gibt Interview zu dänischen TV-Sender
Der syrische Präsident Assad gibt Interview zu dänischen TV-Sender
Der syrische Präsident Assad gibt Interview zu dänischen TV-Sender (Picture-Alliance/Epa/Sana)

شامی صدر بشار الاسد

شامی صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ حلب پر قبضہ نہایت اہم اور بہت  ضروری ہے کیونکہ اس کے بعد ہی دہشت گردوں کو واپس ترکی میں دھکیلا جا سکے گا۔ شامی صدر کے مطابق دہشت گردوں کو ہلاک کرنا یا ملک سے باہر دھکیلنا ہی شام کے لیے سب سے اہم ہے۔ اسد کے مطابق شام کو دہشت گردوں سے صاف کرنے کا یہی ایک آپشن ہے اور اِس صورت حال کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار شامی صدر نے روس کے روزنامے کومسومولکایا پراودا کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

بشار الاسد نے کہا کہ حلب پر فتع اُن کی ملکی فوج کے مورال کے لیے ضروری ہے اور اِس کامیابی سے دوسرے علاقوں میں مصروف جہادیوں کے حوصلے بھی پست ہو سکے ہیں۔ اسد نے کہا کہ اِس بڑے شہر پر قبضے کے بعد قریبی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر دہشت گردوں سے پاک کرنا ہو گا۔ یہ امر اہم ہے کہ شام میں خانہ جنگی سے قبل حلب کو صنعتی و مالیاتی دارالحکومت کہا جاتا تھا۔ آج کا حلب کھنڈر بن چکا ہے۔

Syrien Aleppo Bergung Opfer Luftangriff (picture-alliance/AA/I. Ebu Leys)

شامی شہر حلب پر تازہ بمباری سے درجنوں ہلاکتیں رپورٹ کی گئی ہیں

اپنے انٹرویو میں بشار الاسد نے کہا کہ سعودی عرب نے اُن سے کہا تھا کہ وہ اگر ایران کے ساتھ اپنے تمام رابطے منقطع کر لیں تو وہ اُن کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ خیال رہے کہ شام کے روس اور ایران ہی دو بڑے حلیف ملک ہیں جو دمشق حکومت کو مالی اور عسکری امداد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک اعلیٰ ایرانی جنرل نے بھی ایک دو ہفتے قبل کہا تھا کہ سعودی عرب کے نائب ولی عہد نے روس کے ساتھ تعلقات میں خوشگوار بہتری کے لیے ایران کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کی شرط رکھی تھی۔

 اسد حکومت کی فوج ملکی اور روسی جنگی طیاروں کی مدد سے حلب کے مشرقی حصے پر قبضے کی فوجی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ شہر کے اس مشرقی حصے پر باغیوں کو کنٹرول حاصل ہے۔ اسی علاقے پر منگل سے روسی اور شامی جنگی طیاروں کی شدید بمباری سے ڈیڑھ سو سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ بمباری سے مشرقی حصے کی کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔