1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کا معاملہ فوجداری عدالت کے سپرد کیا جائے، ڈینئل شیشکے وٹس

شام میں انسانی حقوق کو بہت بری طرح پامال کیا جا رہا ہے۔ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار ڈینئل شیشکےوٹس کے مطابق یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ شام کا معاملہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سپرد کر دیا جائے۔

default

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شام میں اس سال مارچ تک پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے، جن میں سے تین سو سے زائد بچے تھے۔ شام میں ان ہلاکتوں کی تصدیق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر ناوی پلے نے بھی ذاتی طورپر کر دی ہے۔ نیو یارک میں عالمی سلامتی کونسل کے سامنے پیش کی گئی ناوی پلے کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار ڈینئل شیشکےوٹس لکھتے ہیں: شام کی صورتحال ناقابل یقین بربریت کا ثبوت ہے۔ وہاں سرکاری سکیورٹی دستوں کی کارروائیوں کا دائرہ کار ان خدشات سے کہیں زیادہ اور شدید تر ہے جو شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پس منظر میں ظاہر کیے جا رہے تھے۔

Syrien Präsident Baschar al Assad in Raqqa

بشارالاسد ابھی تک مطمئن ہیں اور حالات میں کوئی بہتری نہیں آ رہی

یہ بات قابل فہم ہے کہ عالمی سلامتی کونسل ابھی تک شام کے معاملے میں کوئی ایسی قرارداد منظور نہیں کر سکی جس میں اسد انتظامیہ کے اقدامات کی مذمت کی گئی ہو۔ ایسا ابھی تک روس اور چین کی طرف سے بار بار ویٹو کے فیصلوں کی وجہ سے ہوا ہے۔

بین الاقوامی برادری کو اقوام متحدہ کے ایک مینڈیٹ کے تحت اب شام میں شہری آبادی کے تحفظ کے لیے ایک محفوظ کوریڈور قائم کرنا چاہیے۔ اس ممکنہ حفاظتی کوریڈور کو یقینی بنانے کے لیے شام کی ہمسایہ عرب ریاستوں سے فوجیوں کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں جو شام میں عالمی ادارے کے امن دستوں کے فرائض انجام دے سکیں۔ شام کے معاملے میں اب یورپی یونین اور عرب لیگ کی سوچ تقریباﹰیکساں ہوتی جارہی ہے۔

DW Deutsches Programm Daniel Scheschkewitz

شام کی صورتحال ناقابل یقین بربریت کا ثبوت ہے،ڈینئل شیشکے وٹس

یورپی یونین اور عرب لیگ دونوں ہی اسد انتظامیہ کےخلاف وسیع تر پابندیاں عائد کر چکے ہیں لیکن بشارالاسد ابھی تک مطمئن ہیں اور حالات میں کوئی بہتری نہیں آ رہی۔ وہ جانتے ہیں کہ روس ان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ شامی صدر یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ میں ایک خاص کردار کا حامل ہے اور اس کردار کی وجہ سے مغربی دنیا شام میں فوجی مداخلت کا فیصلہ کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔

لیکن شامی صدر ابھی تک اپنی ان کوششوں میں بھی کامیاب نہیں ہوئے کہ کس طرح پورے ملک میں جاری احتجاج اور مظاہروں کو ناکام بنا سکیں۔ شامی اپوزیشن دمشق حکومت کے جبر کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر تیار نہیں ہے۔ بشار الاسد بھی اب خود کو بہت محفوظ تصور نہیں کر سکتے۔ شام کے معاملے میں بین الاقوامی برادری کے مربوط، مشترکہ اور متفقہ اقدامات کی ضرورت اتنی زیادہ کبھی نہیں تھی جتنی کہ آج ہے۔

تبصرہ: ڈینئل شیشکے وٹس/ ترجمہ مقبول ملک

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM