1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کا غیر ملکی مداخلت پر انتباہ

شام کے صدر بشار الاسد نے ایک برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک میں کسی بھی طرح کی بیرونی مداخلت ’پورے خطے کو جلا کر راکھ کر دے گی۔

default

شام کے صدر نے مداخلت کی صورت میں مغربی دنیا کو ’زلزلے‘ سے خبردار کیا ہے۔ ان کا اتوار کے روز برطانوی اخبار ’ٹیلی گراف‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ بین الاقوامی مداخلت ان کے ملک کو ’ایک دوسرے افغانستان‘ میں تبدیل کر سکتی ہے۔ بشارالاسد کے اس بیان سے پہلے گزشتہ روز حمص شہر میں حکومتی ٹینکوں کی شدید گولہ باری اور درجنوں مظاہرین کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شام اس خطے میں امن قائم رکھنے والا ایک انتہائی اہم ملک ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ، عرب لیگ اور مغربی حکومتوں نے گزشتہ سات ماہ سے مظاہرین کے خلاف جاری دمشق حکومت کی پر تشدد کارروائیوں کی کئی مرتبہ مذمت کی ہے۔  

صدر اسد کا انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی ممالک ان پر دباؤ بڑھائیں گے لیکن ان کے ملک کا کسی بھی لحاظ سے مصر، تیونس اور یمن سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

Flash-Galerie Jemen Proteste

گزشتہ سات ماہ سے جاری بغاوت میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

 ان کا کہنا تھا، ’’یہاں کی تاریخ مختلف ہے۔ سیاست مختلف ہے۔ شام اس خطے کا مرکز ہے۔ یہ فالٹ لائن ہے اور اگر زمین کے ساتھ کھیل جاری رکھا گیا تو اس صورت میں صرف زلزلہ آئے گا۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’کیا آپ ایک اور افغانستان یا پھر دسیّوں افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں؟ شام میں کوئی مسئلہ پورے خطے کو جلا کر رکھ دے گا۔ اگر منصوبہ شام کو تقسیم کرنے کا ہے، تو یہ پورے خطے کی تقسیم ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق شام میں گزشتہ سات ماہ سے جاری بغاوت میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 200 کے قریب بچے بھی شامل ہیں۔

مارچ میں احتجاجی مظاہروں کے آغاز کے بعد سے شامی حکام نے پر تشدد کارروائیوں کے سلسلے میں مورد الزم مسلح افراد کو ٹھہرایا ہے۔ حکام کے مطابق یہ مسلح افراد اب تک گیارہ سو کے قریب فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر چکے ہیں۔

شام نے ملک میں بین الاقوامی میڈیا پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ہلاکتوں کے بارے میں اسد حکومت اور اس کے مخالفین کے دعووں کی تصدیق آزادانہ ذرائع سے ممکن نہیں ہے۔

شام کے صدر کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے احتجاج کے ابتدائی دنوں میں غلطیاں کی ہیں تام اب صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عابد حسین

DW.COM