1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کا خونریز ترین میدان جنگ حلب ہی کیوں؟

اکتیس جولائی سے شامی شہر حلب میں شدید ترین لڑائی جاری ہے، جس میں اب تک کم از کم تین سو شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومتی فورسز اور باغی دونوں ہی اس شہر پر مکمل قبضہ چاہتے ہیں۔ مگر کیوں؟

شامی صدر بشار الاسد کی فوج اور سرکاری دستوں کے خلاف برسر پیکار باغیوں دونوں ہی کا دعویٰ ہے کہ وہ حلب کو متحد کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس دعوے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فریقین جس طرح کی جنگ لڑ رہے ہیں، اس نے حلب کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے۔

اکتیس جولائی کو باغیوں نے اپوزیشن کے قبضے میں حلب کے مشرق پر حکومتی پہرا توڑ دیا تھا۔ تب سے اب تک فریقین کے درمیان لڑائی میں، جس میں حکومتی فورسز کی باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی بم باری بھی شامل ہے، سینکڑوں شہری ہلاک ہو چکے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حال ہی میں ایک پانچ سالہ شامی بچے عمران دقنیش کی زخمی حالت میں گرد و غبار میں اٹی حالت کی ایک تصویر نے تمام دنیا کی توجہ حاصل کی تھی۔ اس بچے کو فضائی بم باری کے نتیجے میں منہدم ہونے والی ایک عمارت کے ملبے سے نکالا گیا تھا۔ یہ حلب کی صورت حال کا صرف ایک عکس ہے۔

حلب کی اہمیت

حلب شام کا سب سے بڑا شہر اور خانہ جنگی کے آغاز سے قبل مشرق وسطیٰ کے اس ملک کا اقتصادی مرکز تھا۔ اس پر مختلف ادوار میں یونانی اور مختلف مسلمان بادشاہ قابض رہے تھے۔ انیس سو چھیاسی میں اسے اقوام متحدہ نے عالمی تاریخی ورثے میں شامل کیا تھا۔

تاہم خانہ جنگی نے اس شہر کے بہت سے تاریخی مقامات، جن میں گیارہویں صدی کی امیہ مسجد، تیرہویں صدی کا ایک کلیسا اور قرون وسطیٰ کے زمانے کا ایک بازار بھی شامل ہیں، سبھی کچھ نیست و نابود کر دیا ہے۔ اب بعض تاریخی مقامات پر باغی قبضہ کر کے انہیں اپنے جنگ جوؤں کے لیے پناہ گاہوں کے طور پر بھی استعمال کر رہے ہیں۔

حلب میں شامی صدر اسد کے خلاف بغاوت سب سے آخر میں شروع ہوئی تھی۔ عمومی طور پر یہ شہر اسد حکومت کا حامی تھا۔

حلب: فتح کی کنجی

مبصرین کی رائے میں شام میں جاری جنگ کی کلیدِ فتح حلب ہی ہے۔ اس شہر پر قبضے کا مطلب شامی جنگ میں کسی بھی فریق کے لیے فیصلہ کن جیت ہو گی۔ تاہم اس شہر کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ اس سے صرف پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ترکی کی سرحد ہے۔ اس وقت حلب شام اور ترکی کے درمیان ’پراکسی جنگ‘ کا بھی مرکز بن چکا ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن صدر اسد کے کٹر ترین مخالفین میں سے ایک ہیں اور وہ برملا شامی باغیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انقرہ حکومت کا شمالی شام میں اثر وسیع ہے اور بعض رپورٹوں کے مطابق باغی ترک سرحد عبور کر کے اسلحہ اور کمک حاصل کرتے ہیں۔ اپنے ایک خطاب میں صدر اسد نے حلب کو ایردوآن کا ’قبرستان‘ بنانے کی دھمکی بھی دی تھی۔

حلب سمیت شام بھر میں جاری لڑائی میں اب اتنے زیادہ فریق شامل ہو چکے ہیں کہ یہ تعین کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ کون کس کے خلاف لڑ رہا ہے۔ اسد حکومت اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں سے شدت پسند اسلامی تنظیمیں داعش اور القاعدہ بھی فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سبھی کے لیے حلب کی حیثیت کلیدی ہے۔ اسی کلیدی حیثیت کی حلب کو جان لیوا قیمت بھی چکانا پڑ رہی ہے۔