1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام پر امریکی میزائل حملے، عالمی ردعمل میں تعریف بھی تنقید بھی

امریکا نے شامی فضائیہ کے ایک اڈے پر ساٹھ کروز میزائل داغے ہیں۔ سعودی عرب اور اسرائیل سمیت تقریباﹰ سبھی امریکی اتحادی ممالک نے واشنگٹن کے اس اقدام کی حمایت کی ہے تاہم روس اور ایران نے ان حملوں کی شدید مذمت کی۔

جمعرات چھ اپریل اور جمعہ سات اپریل کی درمیانی شب امریکا نے کروز میزائلوں کے ذریعے شامی فضائیہ کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ حملے شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر شامی باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، ’’شامی آمر بشار الاسد نے نہتے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا بھیانک استعمال کیا ہے۔ آج میں نے اُس ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا حکم دیا ہے، جہاں سے یہ کیمیائی حملے کیے گئے تھے۔‘‘

ٹوما ہاک نامی ساٹھ کروز میزائل امریکی جنگی بحری جہازوں سے داغے گئے جن کا نشانہ شامی شہر حمص کے نواح میں قائم ملکی فضائیہ کا ایک اڈہ تھا۔ دمشق حکومت اور اپوزیشن کے ذرائع سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ان میزائل حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک جب کہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شام کے معاملے پر اپنے پیش رو باراک اوباما سے مختلف پالیسی اختیار کرنے کا متعدد بار اعلان کر چکے ہیں۔ تاہم ان حملوں کو امریکی صدر ٹرمپ کی شام سے متعلق پالیسی میں ایک ڈرامائی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ اقدامات امریکا کی ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری تھے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق جس وقت امریکی بحری جہازوں سے شام پر یہ میزائل داغے جا رہے تھے، اس وقت صدر ٹرمپ ایک عشائیے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کی میزبانی کر رہے تھے۔

امریکی حملوں کے بعد عالمی سطح پر اس موضوع پر ملا جلا ردِ عمل دیکھا جا رہا ہے۔ برطانیہ، ترکی اور فرانس سمیت امریکا کے کئی دیگر اتحادی ممالک کا کہنا ہے کہ امریکا نے انہیں شام پر میزائل حملوں کی پیشگی اطلاع کر دی تھی۔

اسرائیل، سعودی عرب اور ترکی کی طرف سے حمایت

سعودی عرب نے امریکا کی جانب سے شامی فضائیہ کے ہوائی اڈے پر میزائل حملوں کی تعریف کرتے ہوئے اسے صدر ٹرمپ کا باہمت اقدام قرار دیا ہے۔ سعودی وزارت داخلہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ اسد حکومت کے جرائم کے جواب میں ایک درست اقدام تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا، ’’آج صدر ٹرمپ نے اپنے الفاظ اور عمل کے ذریعے ایک واضح اور سخت پیغام دیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘

ترکی، جاپان، فرانس، برطانیہ اور کئی دیگر امریکی اتحادی ممالک نے بھی صدر ٹرمپ کے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔

روس اور ایران کی طرف سے مذمت

دوسری جانب ایران اور روس نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جن کا ذمہ دار امریکا ہو گا۔ ایران نے شام پر امریکی میزائل حملے کو ’تباہ کن اور خطرناک‘ قرار دیا۔

ویڈیو دیکھیے 02:56

DW.COM