1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں ہنگامی حالت جلد ہی اختتام پزیر

شام کے صدر بشارالاسد نےکہا ہے کہ شام میں گزشتہ پچاس برسوں سے نافذ ہنگامی حالت کا قانون ایک ہفتے میں ختم کر دیا جائے گا، انہوں نے احتجاجی مظاہروں میں شہریوں کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار بھی کیا۔

default

Erstes Treffen des neuen Kabinetts in Syrien

شام میں نئی کابینہ نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں

ہفتے کے روز نئی کابینہ سے اپنے خطاب میں بشار الاسد نے کہا، ’ہنگامی حالت کے قانون پر کام کرنے والے عدالتی کمیشن نے متعدد تجاویز مرتب کر لی ہیں۔ یہ تجاویز حکومت کو پیش کی جائیں گی، جن کے تناظر میں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے میں ایک نیا قانون منظور کر لیا جائے گا۔‘‘

سن 1963ء میں شام میں ہنگامی حالت کا قانون نافذ کیا گیا تھا، جس کے تحت عوامی اجتماعات اور تحریکوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز کو یہ اختیارات بھی دیے گئے تھے کہ وہ کسی بھی فرد کے ذاتی کوائف اور کمیونیکشین کی نگرانی بھی کر سکتی ہیں اور شک کی بناء پر کسی شہری کو حراست میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ اسی قانون کے تحت شام میں میڈیا پر بھی سخت قسم کی پابندیاں نافذ ہیں۔

نئی کابینہ سے اپنے خطاب میں بشارالاسد نے ملک میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری مظاہروں میں اب تک تقریبا 200 افراد کی ہلاکت پر بھی دکھ کا اظہار کیا: ’’ہمیں ہر شہری کی ہلاکت کا افسوس ہے اور ہر زخمی کا دکھ ہے۔ ایسے لوگوں کو شہید سمجھا جانا چاہیے۔ شام کے عوام قابل تکریم ہیں۔ یہ اپنی حکومت سے محبت اور افراتفری سے نفرت کرتے ہیں۔ ‘‘

Syrien Anti Regierungs Demo

ملک بھر میں جمہوریت کے حق میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں

شام میں گزشتہ تقریباﹰ ایک ماہ سے جاری مظاہروں میں شہری بڑے پیمانے پر سیاسی اور جمہوری اصلاحات کے مطالبے کر رہے ہیں۔

شام کے صدر نے اس موقع پر قومی مذاکرے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومتی اداروں اور عوام کے درمیان ایک خلیج موجود ہے، جسے جلد ہی ختم کر دیا جائے گا۔

’’شہریوں کو سلامتی اور خدمات درکار ہیں، تاہم انہیں وقار بھی چاہیے۔ ہم قومی مباحثے میں ہر شخص کو شامل کرنا چاہتے ہیں۔ تمام یونینز اور قومی ادارے اس بات چیت میں حصہ لیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ ملک کے جنوبی شہر درعا سے شروع ہونے والے مظاہرے اب شام کے تقریباﹰ تمام شہروں میں پھیل چکے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے بعد ان مظاہروں کی شدت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : افسر اعوان

DW.COM