شام میں کیمیائی ہتھیار اسلامک اسٹیٹ نے استعمال کیے، ذرائع | حالات حاضرہ | DW | 06.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں کیمیائی ہتھیار اسلامک اسٹیٹ نے استعمال کیے، ذرائع

شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران زہریلی مسٹرڈ گیس کے حملوں کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کیمیائی ہتھیار جس شامی شہر میں استعمال کیے گئے وہاں اسلامک اسٹیٹ کے جنگجو ایک اور باغی گروپ کے خلاف بر سر پیکار تھے۔

کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کی تنظیم ’او پی سی ڈبلیو‘ کے مطابق شام کے شمالی صوبے حلب میں لڑائی کے دوران مسٹرڈ گیس استعمال کی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق او پی سی ڈبلیو کی طرف سے اس حوالے سے ایک خفیہ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ روئٹرز کو دکھائی جانے والی اس رپورٹ کی سمری میں یہ بات نہایت یقین کے ساتھ کہی گئی ہے کہ حلب کے شمال میں واقع شہر ماریا میں 21 اگست کو کم از کم دو لوگ ’سلفر مسٹرڈ‘ سے متاثر ہوئے۔ ’’اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ سلفر مسٹرڈ کے اثرات کے سبب ایک بچے کی ہلاکت ہوئی‘‘۔

او پی سی ڈبلیو کی اس رپورٹ میں اسلامک اسٹیٹ کا نام نہیں لیا گیا کیونکہ حقائق جاننے کے مشن کا یہ کام نہیں تھا کہ وہ ذمہ داروں کا بھی تعین کرے۔ تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کیمیکل جس وقت استعمال کیا گیا اُس وقت اس شہر میں اسلامک اسٹیٹ اور ایک اور گروپ کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک سفارتی ذریعے کا کہنا تھا، ’’اس سے ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ سلفر مسٹرڈ آئی کہاں سے؟ یا تو انہوں (داعش) نے اسے تیار کرنے کی خود ہی صلاحیت حاصل کر لی ہے یا پھر اس گروپ نے اس کیمیکل کے کسی ایسے ذخیرے پر قبضہ کر لیا ہے جو دنیا کے سامنے نہیں لایا گیا تھا۔ دونوں ہی پریشان کن صورتحال ہیں‘‘

اقوام متحدہ کے 1997ء میں منظور کیے جانے والے کیمیکل ویپن کنونشن کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ممنوع ہے

اقوام متحدہ کے 1997ء میں منظور کیے جانے والے کیمیکل ویپن کنونشن کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ممنوع ہے

ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت شام کو 18 ماہ پہلے ہی تمام کیمیائی ہتھیاروں کو عالمی برادری کے حوالے کرنا تھا۔ ایسے ہتھیاروں کا استعمال اقوام متحدہ کے 1997ء میں منظور کیے جانے والے کیمیکل ویپن کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔

روئٹرز کے مطابق ’او پی سی ڈبلیو‘ کی تیار کردہ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو رواں ماہ کے دوران ہی پیش کی جائے گی۔ یہ رپورٹ ایسے شواہد میں ایک اور اضافہ ہے جن کے مطابق دہشت گرد گروپ اسلامک اسٹیٹ نے کیمیائی ہتھیار حاصل کر لیے ہیں اور وہ انہیں شام اور عراق میں استعمال کر رہا ہے۔

کُرد حکام کی جانب سے رواں ماہ کے آغاز میں کہا گیا تھا کہ اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں نے رواں برس اگست میں عراق کے شمالی علاقے میں پیشمرگہ جنگجوؤں کے خلاف ایسے مارٹر گولوں کا استعمال کیا ہے جن میں مسٹرڈ گیس موجود تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑائی میں شریک 35 پیشمرگہ جنگجوؤں کے خون کے نمونوں میں مسٹرڈ گیس سے متاثر ہونے کے نشانات پائے گئے ہیں۔