1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں کم از کم چار سو ایرانی جنگجو مارے گئے، شہداء فاؤنڈیشن

خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں اسد حکومت کی حمایت میں شامی باغیوں اور جہادیوں کے خلاف لڑنے والے مختلف ایرانی ملیشیا گروپوں کے اب تک کم از کم چار سو ارکان مارے جا چکے ہیں۔ یہ بات ایرانی شہداء فاؤنڈیشن کے سربراہ نے کہی۔

Abbas Abdollahi ACHTUNG SCHLECHTE QUALITÄT

ایرانی محافظین انقلاب کا رکن عباس عبدالحئی جو جنوبی شام میں اسد حکومت کی حمایت میں لڑتا ہوا مارا گیا

ایرانی دارالحکومت تہران سے اتوار چودہ اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق شام میں مارے جانے والے ان اسد نواز جنگجوؤں کے ایران میں پسماندگان کی مالی معاونت اور دیکھ بھال کا کام شہداء فاؤنڈیشن نامی ملکی ادارہ کرتا ہے۔

یہ ادارہ ایسے افراد کے خاندانوں کی مالی مدد کرتا ہے، جو کہیں بھی لیکن ایران کے لیے لڑتے ہوئے مارے گئے ہوں۔ ان ہلاک شدگان کے خاندانوں کی مدد کے لیے ضروری نہیں کہ مرنے والے لازمی طور پر ایرانی شہری ہی ہوں۔ ’شہید‘ قرار دیے جانے والے ایسے فائٹرز میں غیر ایرانی جنگجو بھی شامل ہوتے ہیں۔

نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایل این اے نے آج اپنی رپورٹوں میں بتایا کہ شام میں سرگرم ایرانی فائٹر بریگیڈز کے وہاں عسکری کارروائیوں کے دوران مارے جانے والے کم از کم 400 ارکان کے خاندانوں کے معاملات شہداء فاؤنڈیشن کے سپرد کیے جا چکے ہیں۔

اس ایرانی نیوز ایجنسی نے شہداء فاؤنڈیشن کے سربراہ محمد علی شہیدی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ شام میں مارے جانے والے ان فائٹرز کی تعداد کا اعلان بہت طاقت ور سمجھے جانے والے ایرانی محافظین انقلاب کی طرف سے کیا گیا۔ ’’محافظین انقلاب نے یہ اعلان بھی کیا کہ ان جنگجوؤں میں سے نصف کے قریب افغان تھے۔‘‘

Ali Soltan Moradi ACHTUNG SCHLECHTE QUALITÄT

جنوبی شام میں اسد حکومت کی حامی ایرانی ملیشیا کی طرف سے لڑتے ہوئے مارا جانے والا ایرانی محافظین انقلاب کا رکن علی سلطان مرادی

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایرانی حکام نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ شام میں ایرانی ملیشیا ارکان کے طور پر لڑتے ہوئے اب تک کل تقریباﹰ کتنے فائٹر مارے جا چکے ہیں۔

شام میں کئی برسوں سے جاری خانہ جنگی میں ایران صدر بشار الاسد کا بہت بڑا حامی ہے اور تہران کی طرف سے دمشق حکومت کی سیاسی حمایت کے علاوہ اس کی عسکری مدد بھی کی جاتی ہے۔

یہ بات بھی ایک عرصے سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بہت سے افغان شیعہ جنگجو بھی، جن میں سے کئی کے خاندان مہاجرین کے طور پر برسوں سے ایران میں آباد ہیں، شام میں ایرانی ملیشیا گروپوں کے ارکان کے طور پر لڑتے رہے ہیں۔ یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ ایرانی حکام نے شام میں مارے جانے والے افغان شیعہ جنگجوؤں کی تعداد کا کوئی اشارہ دیا ہے۔

DW.COM