شام میں پہلی بار امریکی زمینی دستوں کی تعیناتی کا فیصلہ | حالات حاضرہ | DW | 30.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں پہلی بار امریکی زمینی دستوں کی تعیناتی کا فیصلہ

امریکا حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ صدر باراک اوباما نے شامی تنازعے کے آغاز کے بعد سے پہلی بار بحران زدہ ملک شام کے شمالی حصے میں واشنگٹن کے فوجی دستوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

USA Washington PK Obama Russland Syrien

امریکی صدر نے یہ اجازت بھی دے دی ہے کہ اردن اور لبنان کو دی جانے والی فوجی امداد میں اضافہ کر دیا جائے

واشنگٹن سے جمعہ تیس اکتوبر کی شام ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ان امریکی فوجیوں کی تعداد 50 سے کم ہو گی اور ان کا تعلق اسپیشل آپریشنز کرنے والی امریکی فورسز سے ہو گا۔

یہ امریکی فوجی شمالی شام میں پہلے سے موجود شامی باغیوں کی ان مقامی گراؤنڈ فورسز کے ساتھ مل کر کام کریں گے، جو دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں۔

روئٹرز نے اوباما انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ عسکریت پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ، جسے داعش بھی کہا جاتا ہے، کو عسکری سطح پر ناکام بنانے کے لیے صدر باراک اوباما نے یہ اجازت بھی دے دی ہے کہ ترکی میں اِنچیرلِک کے فضائی اڈے پر واشنگٹن کے A-10 اور F-15 جنگی طیارے بھی تعینات کر دیے جائیں۔

اس کے علاوہ امریکی صدر نے یہ اجازت بھی دے دی ہے کہ اردن اور لبنان کو دی جانے والی فوجی امداد میں بھی اضافہ کر دیا جائے اور ساتھ ہی عراق میں وزیر اعظم حیدر العبادی کی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بھی تیزی اور وسعت لائی جائے تاکہ دولت اسلامیہ کے رہنماؤں اور ان کے نیٹ ورک کو بہتر طور پر عسکری کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا سکے۔

Syrien Freie Syrische Armee Symbolbild US Training Rebellen

یہ امریکی فوجی شامی باغیوں کی ان مقامی گراؤنڈ فورسز کے ساتھ مل کر کام کریں گے

ادھر ویانا سے، جہاں شامی تنازعے کے بارے میں آج ایک بین الاقوامی کانفرنس ہو رہی ہے، نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ باراک اوباما نے جو اجازت دی ہے، وہ شام میں محدود تعداد میں ہی سہی، لیکن مقابلتاﹰ دیرپا بنیادوں پر ایسے امریکی زمینی دستوں کی تعیناتی کا پہلا حکم ہے، جو وہاں جہادیوں کے خلاف لڑنے والی مسلح قوتوں کے ہاتھ مضبوط بنائیں گے۔

DW.COM