1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں مظاہرے، مزید ہلاکتیں

شام میں حکومت مخالف مظاہروں میں مزید دس افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ اپوزیشن مبصر مشن کی کارکردگی پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

شام میں عرب لیگ کا مبصر مشن اس وقت انسانی حقوق اور امن معاہدے کی پاسداری کے حوالے سے مختلف شہروں کا دورہ کر رہا ہے۔ مبصرین کی اب تک کی کارکردگی پرانسانی حقوق کی تنظیمں ہی نہیں بلکہ شامی اپوزیشن کی جانب سے بھی تنقید کی جاری ہے۔ اسی دوران اپوزیشن نے آج بعد نماز جمعہ ایک مرتبہ پھر ملک گیرحکومت مخالف مظاہروں کی کال دی۔ ان مظاہروں میں عرب لیگ کے مبصرین کے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق اس دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں۔

شامی اپوزیشن کی جانب سے کیے جانے والے مظاہروں میں مبصر مشن کوبھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم نے بتایا ہے کہ آج کے مظاہروں میں سکیورٹی فورسز نے مزید دس افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ ان میں سے پانچ درعا میں جبکہ بقیہ حماء میں ہلاک ہوئے۔ پولیس پر مظاہرین کو منتشرکرنےکے لیے کیلوں والے بم استعمال کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ کیلیں لگنے سے بیس سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

Mustafa al-Dabi Syrien Beobachtermission

شامی اپوزیشن مبصر مشن کے سربراہ جنرل الدابی کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہے

بیرون ملک مقیم شامی نیشنل کونسل کے سربراہ برہان غالیون نے بھی مبصر مشن کی کارکردگی پر سوال اٹھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مبصر مشن میں افراد کم ہیں اور شام میں بدامنی کے شکار شہروں کی تعداد زیادہ ہے۔ مبصرین کو چاہیے کہ وہ مبہم بیان دینے سے گریز کریں۔ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ شامی عوام ان کے ساتھ ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہےکہ مبصر مشن کے سربراہ جنرل الدابی کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹایا جائے اور کسی غیر متنازعہ شخص کو حالات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی جائے۔ شامی اپوزیشن کی جانب سے آج مظاہروں کی کال مبصر مشن کو اپنی طاقت دکھانے کے لیے دی گئی تھی۔ صحافیوں کی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی Soazig Dollet نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مبصرین کو آزادی سے کام کرنے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔ ان کے بقول مبصر مشن کے ساتھ ہر وقت یا تو کوئی حکومتی اہلکار ہوتا ہے یا اس مشن کا پیچھا کیا جا رہا ہوتا ہے۔ اس طرح ان افراد کے لیے متاثرین یا پر تشدد واقعات کے عینی شاھدین تک رسائی بہت مشکل ہے۔

حکومت مخالفین کے ایک ترجمان نے کہا کہ مبصر مشن کی چشم پوشی مجرمانہ غفلت سے کم نہیں ہے۔ اس طرح حکومت کے ساتھ ساتھ بے گناہوں کے قتل عام کے ذمہ داری ان پر بھی عائد ہو رہی ہے۔ اس موقع پر شامی صدر بشارالاسد کے خلاف سرگرم اپوزیشن کے ایک کارکن نے فیس بک پر پیغام دیا کہ مبصر مشن کو چاہیے کہ وہ قاتل اور مقتول کے مابین فرق سمجھیں۔

DW.COM