1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں مظاہرے جاری، مزید چھ افراد ہلاک

شام کی سکیورٹی فورسز نے جمعے کے روز ملک کے مختلف علاقوں میں حکومت مخالف چھ مظاہرین کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ حکومت کی طرف سے قومی مذاکرات کے اعلان کے باوجود شام میں مظاہروں میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔

default

حکومت کی طرف سے ایک حالیہ بیان میں اعلان کیا گیا تھا کہ اگلے چند روز میں ’قومی مذاکرات‘ کا آغاز کر دیا جائے گا، جس کے ذریعے حاصل ہونے والی سفارشات کی روشنی میں ملک میں سیاسی اور جمہوری اصلاحات کی جائیں گی۔ شام کی حکومت مظاہرین کے خلاف طاقت کے اندھادھند استعمال کی وجہ سے عالمی برادری کی شدید تنقید کا شکار ہے جبکہ عالمی سطح پر دمشق حکومت سے مطالبات بھی کئے جا رہے ہیں کہ وہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال ترک کرے۔ شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کے مطابق رواں برس 18 مارچ سے شروع ہونے والے ان حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 800 سے زائد ہے۔

جمعے کے روز ہلاکتوں کا یہ واقعہ جنوبی شہر درعا میں پیش آیا۔ اس کے علاوہ دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں کے ساتھ ساتھ حمص شہر میں بھی مظاہرین پر سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک کارکن Razan Zaitouna کے مطابق مشرقی شہر میادین میں حکومت مخالف مظاہرین پر سکیورٹی فورسز نے براہ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں چار شہری زخمی ہو گئے۔

واضح رہے کہ شام میں مظاہروں میں شدت کے ساتھ ساتھ مختلف شہروں میں سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت میں بھی واضح اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم گزشتہ روز ہونے والی یہ ہلاکتیں پچھلے جمعے کے مقابلے میں کم تھیں۔ مظاہرین گزشتہ کئی ہفتوں سے نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد سڑکوں پر نعرے بازی کرتے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق گزشتہ دنوں کے مقابلے میں اس بار بعد نماز جمعہ ہونے والے مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے کم واقعات پیش آئے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس