1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں مظاہرین کے خلاف فوجی آپریشن میں شدت

شامی حکومت کی طرف سے شورش زدہ شہر درعا میں مزید فوجیوں کی تعیناتی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ عرب لیگ، امریکہ اور متعدد یورپی ممالک نے شام میں حکومت مخالف اور جمہوریت نواز مظاہرین کو حکام کی طرف سے کچلنے کی مذمت کی ہے۔

default

درعا میں مزید فوجی تعینات کر دیے گئے ہیں

شام کے جنوبی شہر درعا میں گزشتہ روز شامی فوجیوں، بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کے داخل ہونے کے بعد سے ملک کی صورتحال تشویش ناک شکل اختیار کر گئی ہے۔ درعا اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے شام کے ایک انقلابی گروپ کی طرف سے فیس بُک کے ذریعے بھیجے جانے والے ایک پیغام سے پتہ چلا ہے کہ ان علاقوں میں پانی اور بجلی کی سپلائی منقطع ہے۔ ہزاروں حکومت مخالفین کو متعدد شہروں اور دیہات سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اُردن کی سرحد سے نزدیک ایک علاقے سے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بذریعہ ٹیلی فون ایک بیان دیتے ہوئے ایک شامی سرگرم عبدل ابازید نے بتایا کہ نئے فوجی دستے درعا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ درعا کے مضافات میں ایک ٹینک تعینات کر دیا گیا ہے۔ ابا زید نے بتایا کہ شامی فوجیوں نے رہائشی علاقے اور ایک مسجد پر فائرنگ کی ہے۔ مزید یہ کہ درعا کے ایک مولوی مفتی عبدالرحمان ابا زید کے گھر کا محاصرہ کر لیا گیا ہے، جو گزشتہ ہفتے مظاہرین کے خلاف ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد سے فرار ہوگئے تھے۔ درعا کے رہائشیوں کے مطابق گزشہ روز یعنی پیر کی صبح ہی سے تمام شہر کی بجلی اور پانی کی ترسیل منقطع ہے۔

Syrien Armee Damascus

دمشق میں بھی جگہ جگہ چک پوسٹ بنائی گئی ہے

دریں اثناء ایمنسٹی انٹر نیشنل نے کہا ہے کہ درعا میں شہریوں کی عمارتوں پر ٹینکوں سے گولے داغے گئے ہیں۔ اُدھر عرب لیگ نے شام سمیت دیگر عرب ممالک میں جمہوریت پسند مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کو گولیوں کی نہیں تعاون کی ضرورت ہے۔ روئٹرز کو ایک بیان دیتے ہوئے عرب لیگ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ تمام شورش زدہ عرب ریاستوں اور حکومتوں کو چاہیے کہ ملک میں جمہوری اصلاحات کا سلسلہ تیزی سے آگے بڑھائیں۔ عوامی احتجاج کو کچلنے کا سلسلہ فوراً سے پیشتر بند کیا جائے اور عوام کا خون بہانے سے پرہیز کیا جائے۔

Syrien Gewalt Proteste Beerdigung Trauer

شام میں حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک سینکڑوں افراد جاں بحق ہوچُکے ہیں

دریں اثناء یورپی ممالک اٹلی اور فرانس نے دمشق حکومت سے شام میں مظاہرین کے خلاف پُر تشدد آپریشن فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آج روم میں ہونے والے دو طرفہ مذاکرات کے بعد فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی اور اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکرنی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر سارکوزی نے کہا ’ شام میں سکیورٹی کونسل کی قرارداد کی منظوری کے بغیر کسی قسم کا کوئی قدم نہیں اُٹھایا جا سکتا۔ برطانوی سیکریٹری خارجہ ولیم ہیگ نے لندن میں کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے ساتھ مل کر دمشق کو ایک سخت سگنل بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل کے ایک ترجمان Tommy Vietor نے گزشتہ روز کہا تھا کہ واشنگٹن دمشق پر ’ تاک کر پابندیاں‘ لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس