1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں مظاہروں کی شدت میں اضافہ، مزید ہلاکتیں

سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں دو مظاہرین کے قتل کے بعد شام میں ہفتے کے روز مظاہروں میں مزید شدت دیکھی گئی ہے۔ مظاہرین نے بشار الاسد کی جماعت کے دفتر کو بھی نذر آتش کر دیا۔

default

اپنی مضبوط سکیورٹی فورسز کے حوالے سے معروف شام میں گزشتہ بارہ روز سے جاری ان مظاہروں میں شدت آتی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے رویے میں بھی قدرے تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

حالانکہ کہ حکام نے مظاہروں میں شرکت کے الزام میں حراست میں لیے گئے 260 سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے، تاہم اس سے مظاہروں کی شدت اور عوامی مطالبات میں کسی قسم کی لچک دیکھنے میں نہیں آ رہی ہے۔ مظاہرین بدستور صدر بشارالاسد کے اقتدار سے الگ ہونے کے مطالبات دوہرا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ بشار الاسد سن 2000 ء سے شام پر حکومت کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق 15 مارچ سے جاری مظاہروں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 27 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سے 20 مظاہرین جبکہ سات سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 126 ہے، جن میں سے تقریبا 100 گزشتہ بدھ سے اب تک جنوبی شہر درعا میں ہلاک کیے گئے ہیں۔

Regierungsanhänger Kundgebung in Damaskus Flash-Galerie

مظاہرین بشارالاسد کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں

شام کے ایک حکومتی عہدیدار نے فرانسیسی خبررساں ادارے AFP کو بتایا کہ ہفتے کے روز دارالحکومت دمشق سے 350 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع شہر اللاذقیہ میں سکیورٹی فورسز کے نشانہ بازوں نے دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جبکہ دو افراد زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق اس خبر کے عام ہوتے ہی مظاہرین نے دارالحکومت دمشق کے جنوب میں ایک پولیس اسٹیشن کے ساتھ ساتھ حکمران بعث پارٹی کے ایک دفتر کو بھی نذر آتش کر دیا۔ واضح رہے کہ بعث پارٹی تقریبا نصف صدی سے شام کی حکمران جماعت ہے۔

دوسری جانب حکومت نے ملک میں مزید سیاسی اصلاحات کا اعلان کیا ہے، تاہم مظاہرین بشارالاسد کے حکومت سے علیحدہ ہونے تک مظاہرے جاری رکھنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس