1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں غذائی امداد کے لیے ایئر ڈراپس کیوں نہیں؟

جیسے جیسے میڈیا کی رپورٹوں کے ذریعے محصور شامی شہریوں کی بھوک اور فاقے کے دل خراش مناظر سامنے آ رہے ہیں ویسے ویسے یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ آخر ان کے لیے فضا سے اشیائے خوردنی برسانے کا کام کیوں نہیں شروع کیا جا رہا ہے؟

اقوام متحد کی طرف سے تمام تر کوششیں کی جا رہی ہیں کہ آئندہ پیر کو منعقد ہونے والے مجوزہ شامی امن مذاکرات کی میز پر تمام فریقوں کو لایا جائے۔ اس بات چیت کا ایک کلیدی موضوع شام میں انسانی صورتحال ہی ہوگی اور چار فروری کو لندن میں شام کی امداد کے بارے میں دنیا کی بڑی طاقتیں بھی اسی موضوع پر توجہ مرکوز رکھیں گی۔ لندن مذاکرات میں جرمنی اور ایران کے نمائندوں کی شرکت بھی متوقع ہے۔

شام کی جنگ کو چھڑے قریب پانچ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق شام میں اس وقت 393,000 افراد محصور ہیں۔ گزشتہ برس غذائی امداد ان میں سے محض ایک فیصد انسانوں تک پہنچ سکی تھی۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ قریب 181,000 افراد دمشق حکومت کے حصارمیں ہیں۔

Syrien Neuer Hilfskonvoi erreicht Madaja

امدادی قافلے کی متاثرین تک رسائی بہت مشکل نظر آ رہی ہے

امریکی فضائیہ کی ایک اسٹیٹ سیکرٹری ڈیبوراہ لی جیمز نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ،’’شام میں غذائی امداد فضا سے برسائی جا سکتی ہیں۔‘‘ امریکی سیکرٹری کا مزید کہنا تھا،’’ اگر ہم سے کہا جائے تو ہم یہ کر سکتے ہیں۔ اس کام کی انجام دہی کے لیے ہمارے پاس ذرائع اور افرادی قوت دونوں موجود ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایئر ڈراپس کیسے کیے جاتے ہیں‘‘۔ ڈیبوراہ لی جیمز نے یہ بیان سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز کے ایک اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران دیا تھا۔

روس جو شام کا قریب ترین دوست اور اتحادی ہے، نے رواں ماہ شام کے شہر دیر الزور میں محصور انسانوں کے لیے غذائی امداد برسانے یا ایئرڈراپس کا اعلان کیا تھا۔ دیرالزور کے حکومتی علاقوں کی ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جنگجوؤں نے ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اندازے کے مطابق دیر الزور میں دو لاکھ کے قریب باشندے آئی ایس کے حصار میں ہیں۔

اقوام متحدہ کے پاس بھی غذائی امداد کے لیے ایئر ڈراپس کی صلاحیت موجود ہے۔ بہت سے بحران زدہ ممالک میں ورلڈ فوڈ پروگرام کی طرف سے دور افتادہ اور ایسے مقامات جہاں تک رسائی مشکل ہوتی ہے، فضا سے غذائی امداد برسانے کا طریقہ کار اپنایا جاتا رہا ہے۔

Syrien Damaskus Jarmuk Palästinenser

بقاء کی جنگ کرنے والے شامی باشندے

2014 ء کے بعد سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے ذریعے اس عمل کی اجازت دی گئی ہے کہ دمشق حکومت کی اجازت کے بغیر شام میں امدادی اشیاء فراہم کی جائیں تاہم اس کے اثرات واضح نہیں ہیں۔

دریں اثناء سفارتکاروں، امدادی کارکُنوں اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ وہ شام میں محصور باشندوں کو غذائی اشیاء فراہم کرنے کے تمام متبادل طریقوں پر غور کر رہے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایئر ڈراپس یا فضا سے غذائی اشیاء برسانے کا طریقہ کار سیاسی اور انصرامی پیچیدگیوں کا سبب ہوگا۔

سلامتی کونسل کے چند سفارتکاروں کا خیال ہے کہ شامی حکومت کی اجازت کے بغیر ایئرڈراپس کا طریقہ کار اپنانے کی صورت میں شامی حکومت کی طرف سے رد عمل کے طور پر طاقت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

DW.COM