1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں سکیورٹی کریک ڈاؤن جاری، ’مزید تیرہ ہلاکتیں‘

شام میں سکیورٹی فورسز کے تازہ کریک ڈاؤن میں جمعے کو مزید تیرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں شام کے طاقتور اتحادی روس کی جانب سے دمشق حکومت پر اقوام متحدہ کے مسودے میں کی گئی تنقید کے ایک روز بعد ہوئی ہیں۔

default

اپوزیشن کارکنوں کے مطابق جمعے کو ہونے والی ہلاکتیں شام کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر ہلاکتیں حمص میں ہوئی ہیں، جو نو ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کا ایک مرکز چلا آ رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جمعے کو ’مسلح دہشت گرد گروپوں‘ کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر حملوں کے باوجود کوئی ہلاکت نہیں ہوئی، نہ ہی کوئی زخمی ہوا۔

روئٹرز کے مطابق شام نے اپنے ہاں آزاد میڈیا کو کام کرنے سے روک رکھا ہے، جس کی وجہ سے اپوزیشن کارکنوں اور حکام کے مؤقف کی تصدیق مشکل رہتی ہے۔

برطانیہ میں قائم سیریئن اوبزرویٹری فار ہیومین رائٹس کے مطابق جمعے کو حمص کے مختلف اضلاع میں تقریباﹰ دو لاکھ افراد نے حکومت کے خلاف مارچ کیا۔ عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کی جانب سے نشر کی گئی ویڈیو کے مطابق مظاہرین نے علامتی پھندے بنائے جن کے ذریعے پتلوں کو پھانسیاں دی گئیں، جن میں سے دو بشار الاسد کے تھے۔

ABC Interview mit Baschar al-Assad 2011 BILDAUSSCHNITT

شام کے صدر بشار الاسد

روئٹرز کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی اس تعداد کی تصدیق ہو جائے، تو یہ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران حکومت مخالف ہونے والے بڑے مظاہروں میں سے ایک ہو گا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس باعث دمشق حکومت کو عالمی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ مغربی طاقتیں اور عرب لیگ اس  کے خلاف پابندیوں کا اعلان بھی کر چکی ہیں۔

قبل ازیں روس نے اقوام متحدہ کے مسودے میں مظاہرین پر تشدد کی وجہ سے دمشق حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

روس نے یہ مسودہ جمعرات کو سلامتی کونسل میں پیش کیا تھا۔ فرانس نے اس کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ اس مسودے پر روس کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے، لیکن اس کی تحریر پر بعض تحفظات رکھتی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / روئٹرز

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس