1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 34 افراد ہلاک

انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق شام میں سکیورٹی فورسز نے مرکزی شہر حما میں حکومت مخالف مظاہرین کے ایک جلوس پر فائرنگ کر کے 34 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

default

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شام میں جمہوریت پسند مظاہرین کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن پر تشویش ظاہر کی ہے جبکہ ایک امریکی ادارے کے مطابق شام کے متعدد شہروں میں مظاہرین کی حمایت کرنے والی انٹرنیٹ ویب سائٹس کی بندش کی جا رہی ہے۔

لندن میں قائم، شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نگاہ رکھنے والی انسانی حقوق کی ایک تنظیم سے وابستہ رَمی عبدالرحمان کے مطابق متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے، لہٰذا ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

Syrien Grenze Militär Mai 2011

مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن جاری ہے

عبدالرحمان نے کہا کہ حما سے ٹیلی فون کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق وہاں پولیس نے مظاہرین پر اندھادھند فائرنگ کی۔ عبدالرحمان کے مطابق رواں برس مارچ سے ملک میں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے، آزادی اور جمہوریت کے لیے جاری ان مظاہروں میں مسلسل شدت آ رہی ہے اور حما شہر میں جمعہ کے روز ہونے والا یہ مظاہرہ اس شہر میں اب تک کا سب سے بڑا احتجاجی اجتماع تھا، جس میں 50 ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے۔ عبدالرحمان کے مطابق شام کے دیگر علاقوں میں بھی جمعہ کے روز صدربشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے نعروں کے ساتھ بہت سی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے نے حما شہر میں موجود دیگر افراد کے حوالے سے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ شام میں غیرملکی میڈیا پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ ملکی میڈیا پر لگائی گئی قدغن کے باعث وہاں سے معلومات کے حصول میں شدید مسائل کا سامنا ہے اور جمعہ کے روز ہونے والے اس واقعے میں ہلاک شدگان کی تعداد کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔

بدھ کے روز صدربشار الاسد نے ملکی جیلوں میں قید تمام سیاسی قیدیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا، تاہم اس اعلان کے باوجود جمعہ کے روز ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے اور بشار الاسد سے مستعفی ہونے کے مطالبات دہرائے۔

عبدالرحمان کے مطابق حکومتی اعلانات کے باوجود مظاہروں کی شدت میں کمی کے کوئی اثرات نہیں دیکھے گئے ہیں، جس سے یہ بات ظاہر ہے کہ عوام بشارالاسد پر مزید بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس