شام میں روس کی ناکامی سے مشرق وسطیٰ تباہ ہو سکتا ہے، اسد | حالات حاضرہ | DW | 04.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں روس کی ناکامی سے مشرق وسطیٰ تباہ ہو سکتا ہے، اسد

صدر اسد نے شام میں روسی عسکری مداخلت کو مشرقی وسطیٰ کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں ماسکو کی ناکامی سے تمام خطہ تباہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ترک صدر نے شام میں روسی مداخلت کو ایک سنگین غلطی قرار دے دیا ہے۔

روسی جنگی طیاروں نے اتوار کو مسلسل پانچویں دن بھی شام میں اپنی عسکری کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا۔ ماسکو کے مطابق وہ شام میں انتہا پسند گروہوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ تاہم مغربی ممالک میں ایسے خدشات پائے جاتے ہیں کہ روس جہادیوں کو نشانہ بنانے کا بہانہ کر کے اعتدال پسند باغیوں پر بھی حملہ کر رہا ہے۔

ایرانی ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں شامی صدر بشار الاسد نے اپنے ملک میں قیام امن کے لیے روس، عراق اور ایران کے کردار کی وکلالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اتحاد کی ناکامی کی صورت میں مشرقی وسطیٰ کا تمام خطہ ہی تباہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اتحاد کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔

DW.COM

مغربی اور خلیجی ممالک کا اصرار ہے کہ شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے بشار الاسد کا اقتدار سے الگ ہونا ناگزیر ہے۔ شام کا بحران پانچویں برس میں داخل ہو چکا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق اس دوران دو لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بھی بن چکے ہیں۔ اس بحران کی وجہ سے یورپ کو مہاجرین کے ایک بڑے بحران کو سامنا بھی ہے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اور متعدد مغربی ممالک نے شامی تنازعے میں روسی مداخلت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کئی مبصرین اور شامی باغیوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس طرح شام کا تنازعہ مزید طویل ہو سکتا ہے۔ شام میں اعتدال پسند باغیوں کے علاوہ داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرہ فرنٹ جیسے گروہ بھی فعال ہیں۔ جہاں یہ گروہ صدر اسد کی حامی افواج کے مابین لڑ رہے ہیں وہیں ان گروہوں میں بھی مسلح جھڑپیں رپورٹ کی جا چکی ہے۔

شام میں فوجی مداخلت سے روس غلطی کا مرتکب ہوا ہے، ترک صدر

اس صورتحال میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے واضح کیا ہے کہ شام میں روسی عسکری مداخلت ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اتوار کے دن ماسکو حکومت کو خبردار کیا کہ یوں روس علاقائی سطح پر تنہا ہو سکتا ہے۔ ایردوآن نے کہا کہ روس ایک سنگین غلطی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ صدر اسد کے سخت ناقد ایردوآن نے ماسکو حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ شامی بحران کے حل کے لیے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرے اور وہاں عسکری مداخلت روک دے۔

روسی جنگی طیاروں نے شام میں عسکری کارروائی کا آغاز بدھ سے کیا تھا۔ روس کے مطابق اس کے جنگی جہاز صرف غیر ملکی جہادیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ ان حملوں میں روسی جیٹ طیاروں نے ایسے باغیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے، جو مغرب نواز ہیں۔ مغربی خدشات کے باوجود روسی طیارے شام میں عسکری کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سیاسی حل کی ضرورت ہے، جرمن چانسلر

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ شام میں قیام امن کے لیے ’عسکری مداخلت‘ ضروری ہے لیکن اس طرح شام کا تنازعہ حل نہیں ہو سکتا ہے۔ اتوار کے دن میرکل نے زور دیا کہ اس بحران کے خاتمے کے لیے تمام فریقین کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ایک مقامی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ شام کا مسئلہ صرف عسکری کارروائی سے حل نہیں کیا جا سکتا ہے۔

جرمن چانسلر میرکل نے کہا کہ سیاسی راستہ اگرچہ مشکل ہو گا لیکن پائیدار امن بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ میرکل کے بقول اس معاملے میں روس اور امریکا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، ہمیں ایک سیاسی حل کی ضرورت ہے۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ اس عمل کو شروع کرنے کے لیے مشکلات درپیش ہیں۔‘‘

Symbolbild - Wladimir Putin und Bashar Assad

روسی صدر پوٹن شامی صدر بشارالاسد کے اہم اتحادی ہیں

روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا کہنا ہے کہ ماسکو حکومت انتہا پسند گروہ داعش کو اس لیے نشانہ بنا رہی ہے تاکہ یہ جہادی روس کی سلامتی کے خطرہ نہ بن جائیں۔ انہوں نے ایسے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے کہ شام اور عراق میں فعال یہ شدت پسند گروہ روس کے ایسے علاقوں میں بھی اپنی جڑیں مضبوط کر سکتا ہے، جہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔

دریں اثناء سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ حمص میں اتوار کو کی گئی تازہ روسی کارروائیوں میں مزید پانچ شہری مارے گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہفتے کے دن شام میں روسی کارروائی میں انتالیس شہری ہلاک ہوئے تھے۔ روس نے ان تازہ فضائی حملوں کے دوران شہری ہلاکتوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔