1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں روس کا فضائی کے بعد بحری آپریشن

شامی حکومتی فوج نے روسی فضائی حملوں کی مدد حاصل کرتے ہوئے شام کے وسطی علاقے میں ایک زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

دمشق حکام کے مطابق بدھ کو پہلے روسی بحری جنگی جہازوں نے شام میں میزائل داغے جس کے بارے میں ماسکو نے کہا ہے کہ یہ حملے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

روس کی طرف سے شامی علاقوں میں ان بحری حملوں سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل ماسکو کی طرف سے شام میں فضائی کاروائی کی گئی تھی۔ اس سے2011ء سے جنگ کی شکار مشرق وسطیٰ کی اس ریاست کی صورتحال نہایت پیچیدہ ہو گئی ہے۔ خانہ جنگی کے نتیجے میں چھڑنے والی یہ آگ اب علاقائی نہیں رہی بلکہ اس کی نوعیت بین الاقوامی بحران کی سی ہوتی جا رہی ہے۔

ماسکو نے اب تک شام کے وسطی اور شمال مغربی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، خاص طور سے اُن علاقوں کو جو اسٹریٹیجک حوالے سے شامی صدر بشار الاسد کے دمشق میں گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں کی راہ گزر تصور کیے جاتے ہیں اور یہ بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ہیں۔

Russland Syrien Luftschläge Kampfflugzeug

30 ستمبر سے اب تک روس شام میں آئی ایس کے ٹھکانوں پر 112 حملے کر چُکا ہے

شامی حکام کے مطابق حکومتی فورسز صوبہ حما اور ادلیب میں، جہاں باغیوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران پیش قدمی کی ہے، اپنی کارروائیوں سے باغیوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ بات ایک حکومتی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہی کہ جن شامی علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں وہاں اسلامک اسٹیٹ گروپ موجود نہیں ہے۔

اُدھر ماسکو میں روسی وزیر دفاع سیرگئی شوئیگو نے کہا ہے کہ روس بحیرہ کیسپین میں اپنے وار شپس کی مدد سے شام میں اسلامک اسٹیٹ کے گروپوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ایک ٹیلی وژن پر شائع ہونے والے ایک بیان میں سیرگئی نے کہا کہ بُدھ کی صبح روس کی طرف سے بحیرہ کیسپین میں موجود چار بحری جنگی جہازوں سے 26 میزائل شامی علاقوں میں داغے گئے ہیں۔

سیرگئی نے ان حملوں کی مدد سے تمام اہداف کو تباہ کر دینے کا دعویٰ کیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ اس آپریشن میں شہری علاقوں پر ایک بھی حملہ نہیں کیا گیا ہے۔

Syrien Idlib Löscharbeiten Mutmasslicher Russischer Luftangriff

صوبہ حما اور ادلیب میں شدید جھڑپیں جاری ہیں

روسی وزیر دفاع سیرگئی شوئیگو نے یہ بھی کہا کہ 30 ستمبر سے شروع ہونے والے روسی آپریشن کے دوران شام میں اسلامک اسٹیٹ یا آئی ایس کے ٹھکانوں پر 112 فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق بُدھ کی صبح شامی حکومتی فوج کی طرف سے شمال مغربی صوبے ادلیب اور اس کے ہمسائے صوبے حما کے چار محاذوں پر حملے شروع ہو گئے تھے۔

اُدھر شام میں سرگرم، امریکی پشت پناہی والے ایک باغی گروپ ’تجمع الیزاہ‘ نے ایک ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے زمینی کارروائی کی تصدیق کر دی ہے۔

DW.COM