1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں روسی کارروائی کا مقصد ’مغرب پر دباؤ‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک تجزیے کے مطابق شام میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے روسی صدر ولادیمیر پوٹن مغرب پر اپنی طاقت ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

شام کی فضا میں گرجتے جنگی طیارے اور بحری بیڑوں سے نکلتے میزائل: روس کی شام میں جنگی کارروائیاں جہاں عسکری مقاصد حاصل کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں، وہیں ان کا ایک مقصد مغربی ممالک کو یہ بتانا بھی ہے کہ ماسکو ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر ایک بھرپور طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے۔

ستمبر کے مہینے سے روس شام میں فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جن کا مقصد بقول بعض تجزیہ کاروں کے شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کو بچانا ہے۔ مغربی ممالک اسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں، تاہم روس کی شام میں مداخلت کے بعد صورت حال مزید پیچیدہ اور مشکل ہو گئی ہے۔

یہ امر واضح رہے کہ سن انیس سو اناسی میں افغانستان میں سابق سوویت یونین کی مہم جوئی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ روس بیرون ملک کسی فوجی آپریشن میں اس طرح سے شریک ہو رہا ہے۔ اس بات سے ماہرین یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ روس عالمی اسٹیج پر اپنی کھوئی ہوئی سپر پاور کی حیثیت کا احیاء کرنا چاہتا ہے۔

در حقیقت شام میں روسی عسکری کارروائیوں کا ایک پہلو علامتی بھی ہے۔ اس بارے میں روس سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار گریگوری میلامیدوف لکھتے ہیں: ’’میری سمجھ سے باہر ہے کہ بحیرہء کیسپیئن سے فضائی حملے کرنے کا فوجی مقصد کیا ہو سکتا ہے؟ ہم نے اپنی طاقت کا اظہار کیا۔ مگر کس کے خلاف؟ اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف؟ نہیں۔ سب سے بڑھ کر امریکیوں کے خلاف۔‘‘

تھنک ٹینک کارنیگی ماسکو سینٹر سے وابستہ الیگزانڈر باؤنوف کہتے ہیں: ’’پوٹن کبھی نہیں چاہتے تھے کہ وہ ایک ایسی ریاست کی سربراہی کریں جس کی دنیا میں کوئی نہیں سنتا۔‘‘

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا الزام ہے کہ روس کے شام میں حملوں کا ہدف شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نہیں بلکہ صدر بشار الاسد کے خلاف برسر پیکار باغی ہیں۔

واشنگٹن کے کینن انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر میتھیو روجینسکی کے مطابق شام کے بحران کا مرکز داعش نہیں بلکہ عالمی سطح پر طاقت کی رسہ کشی ہے۔ ’’تنازعہ سفارتی سطح سے بالا تر ہو چکا ہے۔ نہ ہی اب یہ معاشی دباؤ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ اب یہ ایک ایسی نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں یہ فوجی طاقت کے استعمال سے اپنی بات منوانے کا عمل بن چکا ہے۔‘‘

روس کی شام میں فوجی کارروائیوں سے داعش کے مضبوط ہونے کا امکان بھی ہے۔ پیرس میں قائم ’اسٹریٹیجک ریسرچ فاؤنڈیشن‘ سے وابستہ کیمیلی گرانڈ کا مغربی ممالک کو مشورہ ہے کہ انہیں روس سے مکالمہ کرنے کی ضرورت ہے، اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو یہ سمجھانے کی بھی کہ ماسکو کے فوجی اقدامات کتنے خطرناک ہیں او ان سے اجتناب کیوں ضروری ہے۔