1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں روسی ڈرون طیاروں کی جاسوس پروازیں شروع

اعلیٰ امریکی اہلکاروں کے مطابق خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں روسی ڈرون طیاروں نے اپنی جاسوس پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ بحران زدہ شام میں ماسکو کی یہ عسکری کارروائیاں اپنی نوعیت کا اولین فضائی اقدام ہیں۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے پیر اکیس ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ماسکو نے شام کے ریاستی علاقے کی فضائی حدود میں اپنے ڈرون طیاروں کی جن جاسوس پروازوں کا آغاز کیا ہے، اس سے کچھ ہی عرصہ قبل روس نے ایک شامی فضائی اڈے پر اپنی فضائی طاقت میں واضح اضافہ بھی کیا تھا۔

روئٹرز کے مطابق یہ بات دو اعلیٰ امریکی اہلکاروں نے اپنی شناخت خفیہ رکھے جانے کی شرط پر بتائی تاہم انہوں نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ ان پروازوں کا دائرہ کار کتنا وسیع ہے یا ان میں روس کے کتنے ڈرون طیارے حصہ لے رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے امریکی اہلکاروں کے اس بیان پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

شام کی فضائی حدود میں روسی ڈرون طیاروں کی پروازوں کے آغاز کے ساتھ ہی ان اضافی فضائی خطرات کی بھی نشاندہی ہو گئی ہے، جس کا سامنا وہاں ان روسی نگران طیاروں اور امریکا کی سربراہی میں قائم بین الاقوامی عسکری اتحاد کے جنگی طیاروں کو کرنا پڑے گا۔

امریکی اور روسی وزرائے دفاع نے ابھی گزشتہ جمعے کے روز ہی اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ حادثاتی تصادم کے امکانات کو کم کرنے کے لیے وہ اقدامات کریں گے، جو عسکری زبان میں deconfliction کہلاتے ہیں۔

روئٹرز نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ ماسکو کی طرف سے شام میں اپنے ڈرون طیاروں کی نگران پروازیں شروع کیے جانے کے بعد اب شامی تنازعے کے بارے میں فوری طور پر روسی امریکی مکالمت کی ضرورت ایک بار پھر زیادہ ہو گئی ہے۔

شام میں وسیع تر تباہی کا سبب بننے والی ساڑھے چار سال سے جاری خانہ جنگی میں روس ابھی تک شامی صدر بشار الاسد کا بہت بڑا حمایتی ہے جبکہ واشنگٹن ماسکو کی طرف سے اسد حکومت کی حمایت کے خلاف ہے۔

Syrien IS-Kämpfer

امریکا اور روس اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کو اپنا مشترکہ دشمن سمجھتے ہیں لیکن اسد مخالف شامی اپوزیشن کے بارے میں ماسکو اور واشنگٹن کے موقف مختلف ہیں

اس کے باوجود سرد جنگ کے زمانے کے دو بڑے حریف ملکوں کے طور پر روس اور امریکا اس بات پر بھی متفق ہیں کہ شام اور عراق میں وسیع تر علاقوں پر قابض عسکریت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ ان دونوں کی بھی مشترکہ دشمن ہے۔

لیکن روئٹرز کے مطابق شام میں روس ملکی اپوزیشن کے ان جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کی کوشش بھی کر سکتا ہے، جنہیں وہ بشار الاسد کی حکومت کے لیے اسلامک اسٹیٹ ہی کی طرح ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ شامی اپوزیشن کے انہی جنگجوؤں کو امریکا کی حمایت بھی حاصل ہے کیونکہ واشنگٹن ان کے ہاتھ مضبوط کرتے ہوئے اسد حکومت کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔

دیگر رپورٹوں کے مطابق روسی ڈرون طیاروں نے شام میں اپنی جو جاسوس پروازیں شروع کی ہیں، ان کے لیے انہوں نے بظاہر لاذقیہ کے قریب اسی شامی ہوائی اڈے سے ٹیک آف کیا تھا، جہاں امریکی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں ماسکو اپنی عسکری طاقت میں اضافہ کرتے ہوئے بحری فوج کے پیدل دستوں، گن شپ ہیلی کاپٹروں، اور جنگی طیاورں سمیت بہت سے فوجی اور جنگی ساز و سامان پہنچا چکا ہے۔

DW.COM