1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں ’روسی فوج بڑھانے کا منصوبہ‘، امریکا کا روس کا انتباہ

روس کی طرف سے شامی تنازعے میں براہ راست شامل ہونے کی خبروں پر امریکی حکومت نے روس کو تصادم کے خطرات سے متنبہ کیا ہے۔ یہ پیشرفت ایسی خبروں کے تناظر میں سامنے آئی ہے جن کے مطابق شام میں روسی فوج کو تعینات کیا جا رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ہفتہ پانچ ستمبر کو بذریعہ ٹیلیفون اپنے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف کو متنبہ کیا کہ روس شامی تنازعے میں براہ راست شامل ہونے سے باز رہے۔ یہ بات امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی گئی ہے۔ ’’سیکرٹری خارجہ نے واضح کیا کہ اگر یہ رپورٹیں درست ہیں تو ایسے اقدامات تنازعے کو مزید بڑھا سکتے ہیں جس کا نتیجہ نہ صرف معصوم جانوں کا مزید بڑے پیمانے پر زیاں اور مہاجرین کے مسئلے میں اضافے کی صورت میں نکل سکتا ہے بلکہ شام میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف سرگرم اتحادی افواج اور روس کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔‘‘

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شامی تنازعے پر بات چیت کا سلسلہ رواں ماہ کے آخر میں نیویارک میں جاری رہے گا۔

ایک امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں ہفتے کے روز چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق روس نے شام کی ایک ایئرفیلڈ پر ایئر ٹریفک کنٹرول نظام پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ فوجیوں کے رہنے کے لیے تیار شدہ رہائشی یونٹس بھی وہاں بھیجے گئے ہیں۔ حکام کے حوالے سے جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روس نے سرحدی ممالک سے ستمبر کے دوران فوجی پروازیں گزارنے کی درخواستیں کی ہیں۔

گزشتہ ہفتے اسرائیلی میڈیا کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ روس نے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف لڑنے کے لیے اپنے جنگی طیارے شامل بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

روس بحیرہ روم کے کنارے طرطوس نامی شامی بندرگاہ پر ایک نسبتاﹰ چھوٹی بحری تنصیب بھی رکھتا ہے

روس بحیرہ روم کے کنارے طرطوس نامی شامی بندرگاہ پر ایک نسبتاﹰ چھوٹی بحری تنصیب بھی رکھتا ہے

تاہم جمعہ چار ستمبر کو روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا تھا کہ شدت پسند گروپ داعش کے خلاف فوجیوں کی تعینات پر بات کرنا فی الحال قبل از وقت ہو گا۔ تاہم انہوں نے شامی فوج کو تربیت فراہم کرنے اور رسد کے حوالے سے ان کی مدد کرنے کے امکانات کی تصدیق کی۔

روس شامی صدر بشارالاسد کے بڑے حامیوں میں سے ایک ہے۔ ماسکو سوویت دور سے دمشق حکومت کو ملٹری ساز وسامان اور ہتھیار فراہم کرتا آیا ہے۔ روس بحیرہ روم کے کنارے طرطوس نامی شامی بندرگاہ پر ایک نسبتاﹰ چھوٹی بحری تنصیب بھی رکھتا ہے۔

روس شامی صدر بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے مغربی طاقتوں کی طرف سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمع کرائی جانے والی کئی قرار دادوں کو بھی ویٹو کر چکا ہے۔ جمعہ چار ستمبر کو روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ایک بار پھر بشار الاسد کے حوالے سے کہا کہ وہ ایک مثبت اپوزیشن کے ساتھ اقتدار بانٹنے کو تیار ہیں۔