1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں دو روزہ قومی مذاکرات شروع

شام میں مارچ سے شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد اب شامی صدر بشار الاسد اپوزیشن سے مذاکرات پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ناقدین کے بقول ان دو روزہ مذاکرات سے کسی بڑی پیش رفت کی امید کم ہی ہے۔

default

شامی صدر بشار الاسد

شام میں حکمران بعث پارٹی اور اپوزیشن کےمابین دو روزہ قومی مذاکرات کا دور شروع ہو گیا ہے۔ اس دوران ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے ممکنہ راستوں پر غور کیا جائے گا۔ اپوزیشن کے کئی اہم رہنماؤں نے ان مذاکرات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے کیونکہ ان کے بقول حکومت نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن ابھی تک ختم نہیں کیا ہے۔

نائب صدر فاروق الشارع نے کہا ہے کہ ان قومی مذاکرات کے دوران ماحول آرام دہ ہر گز نہیں ہوگا۔ قومی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ الشارع نے مزید کہا ہے کہ کسی بھی ملک میں تبدیلی کا عمل آسان نہیں ہوتا اور بالخصوص اُس وقت جب کی کئی اہم فریقین اس کی مخالفت کر رہے ہوں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ تمام قومی اور قبائلی اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ بہترین ہے۔

ان مذاکرات کے دوران شام میں اصلاحات کے طریقہ کار اور ٹائم فریم پر متفق ہونے کی کوشش کی جائے گی۔ اگرچہ شامی صدر بشار الاسد کہہ چکے ہیں کہ وہ ملک میں اصلاحاتی عمل متعارف کروائیں گے تاہم ابھی تک اس حوالے سے جزئیات بیان نہیں کی گئی ہیں۔ گزشتہ ماہ جب بشار الاسد نے ان مذاکرات کی حامی بھری تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ تمام فریقین کے ساتھ مل کر شامی عوام کی بہتری کے لیے ایک متفقہ لائحہ عمل ترتیب دینا چاہتے ہیں۔

NO FLASH Syrien Demonstration gegen Präsident Assad in Kfar

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پر امن احتجاج کی اجازت دی جائے

شامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان مذاکرات کے دوران انتخابات کے قوانین، نئی سیاسی پارٹیوں کے قیام، آئین میں ترامیم اور ذرائع ابلاغ کے لیے بنائے گئے قوانین میں تبدیلی پر غور کیا جائے گا۔ مشرق وسطیٰ پر نظر رکھنے والے سیاسی ناقدین کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس امر پر ہے کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے بڑے رہنما اس عمل کا حصہ کس طرح بنتے ہیں۔ ان کے بقول اگر انہوں نے اپنا بائیکاٹ جاری رکھا تو شاید یہ مذاکراتی عمل ناکام ہو جائے۔

دوسری طرف حکومت مخالف مظاہرے منظم کرنے والے کئی اہم رہنماؤں نے ان مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب تک دمشق حکومت مظاہرین کے خلاف طاقت کا ناجائز استعمال ختم نہیں کرتی، تب تک مذاکرات کارآمد ثابت نہیں ہو سکتے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے حکومت کو اجازت دینی چاہیے کہ عوام پر امن مظاہرے کر سکیں۔

اپوزیشن کے دیگر مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور مظاہروں کی کوریج کے لیے غیر ملکی میڈیا کو شام آنے کی اجازت دی جائے۔

انسانی حقوق کے سرکردہ کارکنان کا کہنا ہے کہ شام میں حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے کے لیے حکومتی فورسز نے جو آپریشن شروع کر رکھا ہے، اس کے نتیجے میں کم ازکم 1400 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 348 سکیورٹی اہلکار مارے گئے ہیں۔ ایک محتاظ اندازے کے مطابق اس دوران بارہ ہزار افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس