1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں داعش کے ساتھ جھڑپوں میں ایرانی جنرل مارا گیا

ایران کی محافظین انقلاب فورس کا ایک جنرل شامی شہر حلب کے نواح میں ہونے والی لڑائی میں مارا گیا ہے۔ یہ ایرانی فوجی مشیر اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں دمشق حکومت کی مشاورت کا کام کرتا تھا۔

ترکی میں انقرہ سے جمعہ نو اکتوبر کو ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق اس جنرل کی موت کی اطلاع ایران کے انقلابی گارڈز کی طرف سے آج جاری کردہ ایک بیان میں دی گئی۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق اس بریگیڈیئر جنرل کا نام حسین ہمدانی تھا اور وہ شامی شہر حلب کے قریب ہونے والی لڑائی میں بدھ کو رات گئے مارا گیا۔

محافظین انقلاب کے بیان کے مطابق یہ اعلیٰ ایرانی فوجی کمانڈر اسی علاقے میں شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی باغیوں اور اسلام پسند جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے سلسلے میں مشاورت کے فرائض انجام دے رہا تھا۔

چار سالہ خانہ جنگی سے تباہ حال شامی ریاست میں ایران دمشق میں صدر اسد کی حکومت کا سب سے بڑا علاقائی اتحادی ملک ہے اور وہ طویل عرصے سے اسد انتظامیہ کی عسکری اور اقتصادی امداد بھی کر رہا ہے۔ شام ہی میں لبنان کی ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مسلح فائٹر بھی دمشق انتظامیہ کے اتحادیوں کے طور پر اسد حکومت کے مخالفین کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

Syrien Bodenoffensive ARCHIV

چار سالہ خانہ جنگی سے تباہ حال شامی ریاست میں ایران دمشق میں صدر اسد کی حکومت کا سب سے بڑا علاقائی اتحادی ملک ہے

اسی دوران ایرانی دارالحکومت تہران سے آمدہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں ملکی فوج کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنرل حسین ہمدانی جمعرات آٹھ اکتوبر کے روز علی الصبح شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قابض دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ کے جہادیوں کے ایک گروپ کے خلاف کارروائی میں مارے گئے۔

انقرہ سے شامی اپوزیشن کے حوالے سے ملنے والی دیگر رپورٹوں کے مطابق دولت اسلامیہ یا داعش کے عسکریت پسند حال ہی میں حلب کے نواح میں پیش قدمی کرتے ہوئے کئی علاقوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے اور ایرانی جنرل ہمدانی اس خطے میں جہادیوں کی پیش قدمی روکنے کی کوششوں کے دوران مارے گئے۔