1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں داعش کی شکست: روس کا کردار کلیدی تھا، صدر پوٹن

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ شام میں شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کو حتمی شکست دینے میں روس نے کلیدی کردار ادا کیا اور اس کامیاب عسکری مہم سے روسی مسلح افواج کے پیشہ ورانہ حوصلے بلند ہوئے ہیں۔

default

شام میں حمیمیم کے روسی فضائی اڈے پر لی گئی ایک تصویر: دائیں سے بائیں، روسی وزیر دفاع شوئیگو، روسی صدر پوٹن اور شامی صدر اسد

روسی دارالحکومت ماسکو سے جمعرات اٹھائیس دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق روسی صدر نے یہ بات آج ایک ایسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جو شام میں روس کی عسکری مہم میں حصہ لینے والے فوجی افسروں کو تمغے دینے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوٹن نے کہا، ’’روس نے خونریزی کے شکار ملک شام میں اس مجرمانہ قوت کو شکست دینے میں اپنا اصولی لیکن بہت فیصلہ کن کردار ادا کیا، جو ہماری پوری تہذیب کے لیے خطرہ بن گئی تھی۔‘‘

شام اور عراق میں داعش کے جنگجو ’اب بھی موجود‘

شام میں روس کے ہزاروں نجی فوجی لڑ رہے ہیں، رپورٹ

ولادیمیر پوٹن کے مطابق، ’’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے جہادی بربریت سے بھرپور ایسی آمریت کا نام تھا، جس نے موت اور تباہی کے بیج بوئے تھے اور جو ایسی عالمگیر جارحیت کی مرتکب ہوئی تھی، جس کا نشانہ ہمارا ملک بھی تھا اور اب تک ہے۔‘‘

Syrien Russland Luftwaffe

شام میں حمیمیم کا روسی فضائی اڈہ

یہ تقریب ماسکو میں روسی صدر کی سرکاری رہائش گاہ کریملن میں منعقد ہوئی، جس میں ملکی فوج کے سینکڑوں ارکان شامل ہوئے۔ اس موقع پر ولادیمیر پوٹن نے یہ بھی کہا کہ شام میں روسی فوجی مداخلت کا ملکی مسلح افواج کو یہ فائدہ ہوا کہ آج ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو چکا ہے اور دنیا پر روس کی فوجی طاقت بھی عیاں ہو گئی ہے۔

شامی تنازعے کا خاتمہ: روس، ایران اور ترکی ’پہلے قدم‘ پر متفق

میں آپ کا شکر گزار ہوں، بشار الاسد

صدر پوٹن کے مطابق شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت میں ستمبر 2015ء میں شروع کی جانے والی عسکری مہم میں ماسکو کے قریب 48 ہزار فوجیوں نے حصہ لیا اور اس دوران بیک وقت کئی مختلف محاذوں پر لڑی جانے والی جنگ کا پانسہ ہی پلٹ دیا گیا۔

روسی سربراہ مملکت نے مزید کہا کہ یہ بات ماسکو کے ان فوجیوں سے زیادہ بہتر اور کوئی نہ جانتا ہے اور نہ ہی محسوس کر سکتا ہے کہ وہ شام میں قریب سوا دو سال کے عرصے میں کن حالات اور عسکری تبدیلی کے کس عمل سے گزرے۔

Der russische Flottenstützpunkts in Tartus

طرطوس کی شامی بندرگاہ پر لنگر انداز روس کا ایک طیارہ بردار بحری بیڑہ

ولادیمیر پوٹن نے اسی مہینے شام میں حمیمیم کے روسی فضائی اڈے کا ایک اچانک دورہ بھی کیا تھا، جہاں انہوں نے ماسکو کے فوجی دستوں کے جزوی انخلاء کا حکم  دیتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ شام میں روسی عسکری مقاصد زیادہ تر حاصل کر لیے گئے ہیں۔

شامی خانہ جنگی کی مختصر تاریخ

روس کا ارادہ ہے کہ وہ شام میں اپنی مستقل عسکری موجودگی قائم رکھے گا، جس کے لیے لاذقیہ میں اس کا حمیمیم کا فضائی اڈہ آئندہ بھی کام کرتا رہے گا اور ساتھ ہی طرطوس کی شامی بندرگاہ پر روسی بحری تنصیبات میں توسیع بھی کی جائے گی۔

ویڈیو دیکھیے 02:33

’جرمنی کے دل‘ ميں شامی خانہ جنگی کی ايک يادگار

DW.COM

Audios and videos on the topic