1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’شام میں خوفزدہ کر دینے جیسا کچھ نہیں‘‘

عرب لیگ کے مبصر مشن نے بدھ کو ایک بار پھر شام کے شورش زدرہ شہر حُمص کا دورہ کیا۔ اس مشن نے منگل کے روز کہا تھا کہ حُمص میں کوئی خطرے والی بات نہیں۔

default

فائل فوٹو

مبصر مشن کے سربراہ مصطفیٰ دابی کے بقول انہوں نے حُمص میں خوفزدہ کرنے جیسا کچھ نہیں دیکھا۔ سوڈان سے تعلق رکھنے والے اس سابق فوجی جنرل نے صورتحال کی مکمل جانچ پڑتال کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔ دمشق سے خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مصطیٰ دابی کا کہنا تھا کہ مبصر مشن کے 20 اہلکار ایک طویل دورانیے تک صورتحال کا جائزہ لے کر حتمی رپورٹ مرتب کریں گے۔ امکان ہے کہ یہ مبصر مشن ایک ہفتے تک شام میں قیام کرے گا۔

امریکہ کی جانب سے مصطفیٰ دابی کے بیان پر فوری ردعمل ظاہر نہ کرنے کی تلقین سامنے آئی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر کے بقول، ’’یہ محض ایک دن کی بات ہے، ہمیں اس مشن کو وقت دینا چاہیے کہ وہ اپنا کام مکمل کرے اور کسی نتیجے تک پہنچے۔‘‘

حُمص وہ شہر ہے، جس کے متعلق شامی سماجی کارکنوں کی ایک تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ملکی سکیورٹی فورسز یہاں آئے روز متعدد شہریوں کو موت کی گھاٹ اتار رہی ہیں۔ یہ شہر ملکی صدر بشار الاسد کے خلاف گزشتہ نو ماہ سے جاری احتجاجی تحریک کا مرکز ہے۔ مبصر مشن یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ آیا صدر اسد عرب لیگ کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کے تحت شہروں سے فوج کی واپسی اور عوام کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ بند کرنے سے متعلق وعدوں کی پاسداری کر رہے ہیں یا نہیں؟

Mohamed Ahmed Mustafa Al-Dabi

مصطفیٰ دابی

عرب مشن کی شام میں موجودہ کے دوران ہی انٹرنیٹ پر کچھ ایسی ویڈیوز نشر کی گئی ہیں، جن میں احتجاجی مظاہرین نے مبصر مشن کے اہلکاروں کو گھیر رکھا ہے۔ دوسری ویڈیوز میں مبصر مشن کے اہلکاروں کو فائرنگ سے بچنے کے لیے دیوار کے پیچھے چھپتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان ویڈیوز کی صحت سے متعلق وثوق سے کچھ کہنا ممکن نہیں کیونکہ شام میں ذرائع ابلاغ کے آزاد ذرائع کی کمی ہے۔

شامی صدر بشار الاسد کا مؤقف ہے کہ بیرونی حمایت سے اسلامی دہشت گردوں نے قریب دو ہزار شامی سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔ امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا البتہ مؤقف ہے کہ شامی فورسز احتجاج کرنے والے نہتے شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال کر رہی ہیں اور عرب مشن کی آمد سے قبل سینکڑوں زیر حراست افراد کو فوجی مقامات پر منتقل کر دیا ہے، جہاں تک مبصر مشن کو رسائی حاصل نہیں۔ سکیورٹی فورسز پر گزشتہ نو ماہ کے دوران پانچ ہزار سے زیادہ شہریوں کی ہلاکت کا بھی الزام عائد کیا جاتا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM