1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں ’خودکش‘ کار بم دھماکے، درجنوں افراد ہلاک

شامی دارالحکومت دمشق میں ہونے والے دو مبینہ ’خودکش‘ کار بم دھماکوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ جمعے کے روز پیش آنے والا یہ واقعہ شام میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری پرتشدد واقعات میں سب سے زیادہ خونریز ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ دھماکے خودکش تھے، جن سے دمشق شہر لرز اٹھا۔ لبنان میں عسکریت پسند شیعہ تنظیم حزب اللہ، جسے صدر بشار الاسد کی حامی سمجھا جاتا ہے، کے زیرنگرانی چلنے والے ایک ٹی وی چینل المنار کے مطابق اس حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک جبکہ 55 زخمی ہوئے جبکہ شامی سرکاری ٹی وی نے زخمیوں کی تعداد 100 کے قریب بتائی ہے۔ تاہم المنار اور شامی سرکاری ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری تھے جبکہ کچھ فوجی بھی ان حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ المنار نے جائے واقع پر موجود اپنے رپورٹروں کا حوالہ دیا ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے فی الحال ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

شامی ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ یہ حملے خودکش تھے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس کے درپردہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا ہاتھ ہے۔ یہ دھماکے شام میں عرب لیگ مبصرین کی آمد کے صرف ایک روز بعد ہوئے۔ یہ مبصرین آج سے شام میں مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کا جائزہ اور وہاں تشدد کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے دمشق پہنچے ہیں۔

سرکاری ٹی وی چینل پر دکھائے جانے والے مناظر میں ہلاک شدگان اور زخمیوں کو ایمبولینسوں میں ڈالا جا رہا ہے جبکہ آس پاس کی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق حملہ آوروں نے سرکاری سکیورٹی فورسز کی عمارت کو نشانہ بنایا جبکہ حملے میں لوکل سکیورٹی برانچ بھی ہدف رہی۔

واضح رہے کہ شام میں گزشتہ نو ماہ سے جاری جمہوریت پسندوں کے مظاہروں اور ان کے خلاف سرکاری فورسز کے کریک ڈاؤن میں اقوام متحدہ کے مطابق اب تک پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عرب دنیا میں تیونس، مصر اور لیبیا کے ساتھ ساتھ شام میں بھی مظاہرین نے کئی برسوں سے برسراقتدار بشارالاسد کی حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا، تاہم حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کا شدید استعمال اب تک وہاں کسی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ شامی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صرف مسلح گروہوں کے خلاف آپریشن کر رہی ہے اور مارچ سے اب تک ان مسلح افراد نے سکیورٹی فورسز کے دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل یورپی یونین اور امریکہ نے شام کے خلاف سخت ترین پابندیوں کا اعلان کیا تھا تاہم سلامتی کونسل میں روسی اور چین کی مخالفت کے باعث بشارالاسد حکومت کے خلاف قرارداد منظور نہیں ہو پائی تھی۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM