1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں حکومت مخالف مظاہرے، پانچ افراد ہلاک

شام میں حکومت مخالف مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ جنوبی شہر درعا میں پیش آیا ہے۔

default

خبررساں ادارے اے ایف پی نے ہلاکتوں کی تعداد پانچ بتائی ہے جبکہ روئٹرز کے مطابق چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اے ایف پی نے انسانی حقوق کے ایک کارکن کے حوالے سے بتایا کہ اس واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ مظاہرین درعا میں عمری مسجد کے قریب جمع تھے، جو جمعہ سے احتجاجی ریلیوں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہ افراد پولیس کو مسجد میں داخل ہونے سے روکنا چاہتے تھے۔

اس کارکن نے بتایا، ’پولیس نے دھرنا دینے والے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل فائر کرنے کے ساتھ ساتھ فائرنگ بھی کی۔‘

شام میں 1963ء سے نافذ ہنگامی قوانین کے تحت ہر قسم کے جلسے، جلوس اورمظاہروں پر پابندی ہے۔ تاہم وہاں گزشتہ ہفتے سے بشارالاسد کی حکومت کے خلاف چھوٹے لیکن بے مثال مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں۔

درعا دارالحکومت دمشق کے جنوب میں ایک سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ شہر حکومت مخالف مظاہروں اور ریلیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ درعا میں ہی اتوار کو کیے گئے سکیورٹی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں بھی چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں ایک گیارہ سالہ بچہ بھی شامل تھا، جو پیر کو انتقال کر گیا۔

شام میں معروف ادیب لوائی حسین کو بھی حراست میں لیے لیا گیا ہے۔ انہوں نے آزادئ اظہار کے موضوع پر ایک آن لائن پٹیشن فائل کی تھی۔

Syrien Präsident Baschar el Assad

شام کے صدر بشارالاسد

دوسری جانب اے ایف پی کے ایک فوٹو گرافر اور کیمرہ مین کا کہنا ہے کہ انہیں درعا میں روکا گیا اور ان کے آلات ضبط کر لیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ان سے پوچھ گچھ کے بعد معذرت کی لیکن آلات نہیں لوٹائے۔

خیال رہے کہ شام عرب دنیا میں طویل المدت اور آمریت پسند حکومتوں کے خلاف مظاہروں کا نیا مرکز ثابت ہو رہا ہے۔ اس سے قبل تیونس اور مصر میں ایسے ہی مظاہروں کے نتیجے میں حکومتیں گر چکی ہیں جبکہ لیبیا کے رہنما معمر قذافی کی جانب سے اقتدار چھوڑنے سے انکار پر وہاں صورت حال ابتر رخ اختیار کر چکی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس