1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں حکومت مخالف مظاہروں میں تقریباﹰ دو سو افراد ہلاک، اپوزیشن

شام میں بنیادی انسانی حقوق کی ایک مرکزی تنظیم نے عرب لیگ سے درخواست کی ہے کہ وہ ملکی حکمرانوں پر پابندیاں عائد کرے۔

default

دمشق ڈیکلیریشن گروپ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے کے دوران ملک میں جاری مظاہروں میں اب تک تقریباﹰ دوسو افراد مارے جا چکے ہیں۔

تحریک نے گزشتہ روز عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل کے نام لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ شام میں اٹھنے والی تحریک میں اب تک دو سو افراد کا خون شامل ہو چکا ہے جبکہ اتنے ہی لوگوں کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے ،"حکومت نے اپنی فورسز کو شہروں کا محاصرہ کرنے اور لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے مسلط کر دی ہیں۔ جبکہ پورے ملک میں مظاہرین صرف ایک ہی بات کر رہے ہیں اور وہ ہے امن پسندی"۔

Bashar Assad kündigt Truppenabzug an

صدر بشار الاسد کے خلاف تحریکیں ضور پکڑ رہی ہیں

خط میں موجودہ صدر بشار الاسد کے والد اور سخت گیر حکمران سابق صدر حافط الاسد کا حوالہ دیتے ہوئے مزید لکھا ہے،" ہم آپ سے شام کی ایک ایسی موجودہ حکومت کو جوآج بھی حافظ الاسد کی سخت گیر روایات کی نگہبانی کر رہی ہے،پر سیاسی، سفارتی اور معاشی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں"۔

اس وقت صدر بشار الاسد کو ان کے 11 سالہ دور اقتدار کے خلاف شدید احتجاج کا سامنا ہے جس کا جواب انہوں نے طاقت کو استعمال کرتے ہوئے دیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق ان کی سکیورٹی فورسز نے غیر مسلح مظاہرین پرفائرکیے جبکہ اب تک صدر کی جانب سے صرف آزادی اظہار پرعائد پابندیوں کو نرم کرنے کے مبہم وعدے ہی کیے جا رہے ہیں۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ صدر بشار الاسد گزشتہ 11 سال سے صرف وعدے ہی کر رہے ہیں۔ وہ مسائل کا حل نکالنے کے بجائے دیگر حکمرانوں کی طرح بیرونی سازشوں کی بات کرتے ہیں۔

ادھر گزشتہ ماہ ملک کے جنوبی شہر دیرا میں اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی اور ملک میں جاری بد عنوانی کے خاتمے کے لیے شروع کیے گئے مظاہرے آہستہ آہستہ ملک بھر میں پھیل چکے ہیں۔ دوسری جانب حکام کے مطابق ان مظاہروں کے ذمہ دار مسلح گروہ ہیں،جو خفیہ طور پر معاشرے میں شامل ہو کر تشدد کو ہوا دے رہے ہیں اور جن سے تصادم میں پولیس اور فوجی اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: عدنان اسحق

DW.COM