1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں حکومت مخالفین کی جد وجہد طویل ہو سکتی ہے

عالمی سطح پر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ عرب ملک شام میں آزادی کی متلاش اپوزیشن کی جدوجہد طویل ہو سکتی ہے کیونکہ دمشق میں قائم حکومت ابھی تک خاصی طاقتور اور مضبوط ہے۔

default

شام میں اپوزیشن کے مظاہرے کریک ڈاؤن کے باوجود جاری و ساری ہیں۔ یہ مظاہرے اپوزیشن کے مطابق ایک ڈکٹیٹر خاندان کے خلاف ہیں۔ مظاہرے شہروں کے علاوہ دیہات اور قصبوں تک میں پھیل چکے ہیں۔ حکومت ان کو مکمل کرش کرنے کے لیے فوج اور ٹینکوں کا سہارا لیے ہوئے ہے۔ دمشق میں قائم اسد حکومت ان مظاہرین کو منظم جرائم پیشہ افراد کا گروہ خیال کرتی ہے۔

مشرق وسطیٰ پر نگاہ رکھنے والے بین الاقوامی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شام میں اپوزیشن کے لیے یہ ایک طویل جد و جہد ہو سکتی ہے کیونکہ ابھی تک اسد حکومت کے کمزور ہونے کے اشارے سامنے نہیں آئے ہیں۔ اس حوالے سے تجزیہ کار اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ شام میں حکومت کو فارغ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ امکانی طور پر اس کی بنیادی وجہ وہاں کا قیادتی اور انتظامی ڈھانچہ ہے جو مصر اور تیونس سے مختلف ہے۔ مصر اور تیونس میں فوج نے مظاہرین پر گولی چلانے سے انکار کر دیا تھا جب کہ شام میں ایسا ابھی تک دیکھا نہیں گیا۔

Nabil al-Arabi und Bashar al-Assad FLASH-GALERIE

عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی اپنے حالیہ دورے کے دوران شامی صدر بشار الاسد کے ہمراہ

مشرق وسطیٰ کے حالات و واقعات کے برطانوی ماہر رابرٹ فرسک کا خیال ہے کہ شام کی فوج کا رویہ بقیہ عرب دنیا سے مختلف دکھائی دیتا ہے اور اسی باعث وہ شام کے عوام کو تحفظ دینے کی بجائے حکمران ٹولے کو محفوظ رکھنے کی کوششوں میں ہے۔ فرسک کے مطابق شام کی فوج کے تمام اعلیٰ عہدے دار اسد خاندان اور حکمران بعث پارٹی کے وفادار ہیں۔

شام میں حکومت مخالف اپوزیشن نے اپنی تحریک اس سال مارچ کے وسط سے شروع کر رکھی ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اس عوامی احتجاج کے دوران اب تک  ڈھائی ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

لندن میں قائم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرنی والی حکومت مخالف قوتوں کو بخوبی احساس ہے کہ عرب دنیا میں اب کچھ بھی ناممکن نہیں ہے اور شام کی گلیوں اور سڑکوں پر مظاہرین کا مسلسل باہر نکلنا ایک ناقابل یقین عمل دکھائی دیتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں ماضی میں اٹھنے والی تحریکوں کے مقابلے میں موجودہ حکومت مخالف تحریک زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے اور لوگ بھی تبدیلی اور آزادی کے متمنی ہیں۔ اس حوالے سے اپوزیشن رہنما مامون الحمصی کا کہنا ہے کہ شامی عوام آمروں سے نجات کی کوشش میں ہیں۔ الحمصی کا مزید کہنا ہے کہ اسد حکومت کا خیال ہے کہ وہ ماضی کی طرح ایک بار پھر کریک ڈاؤن کے ذریعے عوامی احتجاج کو کچل دے گی لیکن شاید اب ایسا ممکن نہیں کیونکہ تبدیلی کی زور دار لہر پیدا ہو چکی ہے۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  امجد علی

DW.COM

ویب لنکس