1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں حزب اللہ کا اہم کمانڈر ہلاک

لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ کا ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر مصطفیٰ بدر الدین ہمسایہ ملک شام میں ہلاک ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ حملہ اسرائیل نے کیا تھا لیکن حزب اللہ کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

لبنانی گروپ حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ایک اعلیٰ کمانڈر مصطفیٰ بدر الدین شام میں ایک حملے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ بدر الدین شام میں حزب اللہ کی فوجی کاروائیوں کا نگران تھا اور اسے حزب اللہ کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

حزب اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دمشق کی ایئر پورٹ کے قریب ہونے والے اس واقعے کی وجہ اور نوعیت کے حوالے سے چھان بین جاری ہے تاہم حزب اللہ نے اس حملے پر فوری طور پر اسرائیل کی جانب انگلی نہیں اٹھائی ہے۔

اس سے قبل 2008ء میں مصطفیٰ بدر الدین کے پیش رو عماد مغنیہ کے دمشق میں ایک مشتبہ کار بم دھماکے میں مارے جانے پر حزب اللہ نے اسرائیل کو ان کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھرایا تھا۔

Libanon Hisbollah - Mustafa Amine Badreddine

حزب اللہ کے قیام کے آغاز ہی سے اس کے عسکری ونگ میں بدر الدین کا کردار اہم رہا ہے

اسرائیل نے شام میں پانچ سالہ جنگ کے دوران اپنے کئی اہداف کو نشانہ بنایا ہے تاہم ابھی تک اس کی جانب سے اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ آیا حزب اللہ کمانڈر کی ہلاکت میں اس کا کوئی کردار ہے یا نہیں۔

حزب اللہ کے قیام کے آغاز ہی سے اس کے عسکری ونگ میں بدر الدین کا کردار اہم رہا ہے۔ حزب اللہ شام کے صدر بشار الاسد کا حامی گروپ ہے اور مصطفی بدر الدین شام میں حزب اللہ کی فوجی کارروائیوں کے لیے ذمہ دار تھا۔

امریکی حکومت نے 2012ء میں بدر الدین سمیت حزب اللہ کے کئی دیگر کمانڈروں پر شامی صدر بشار الاسد کی حمایت میں مہم چلانے اور عسکری کارروائیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

بدر الدین پر یہ الزام بھی تھا کہ 2005ء میں سابق لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری کی ہلاکت میں ان سمیت پانچ افراد کا ہاتھ تھا۔ اس واقعے میں دیگر بائیس افراد ہلاک بھی ہوئے تھے۔