1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں حالات قابو میں آ رہے ہیں، حکومتی دعویٰ

شامی صدر بشار الاسد کی ایک اہم مشیر نےدعویٰ کیا ہے کہ دمشق حکومت گزشتہ سات ہفتوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں پر قابو پانے کے قریب پہنچ چکی ہے۔

default

شامی صدر بشار الاسد کی مشیر اور ترجمان بثینہ شعبان نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ حالات جلد ہی قابو میں آ جائیں گے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے امریکی اخبار میں شائع ہونے والے شعبان کے اس انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،’ مجھے امید ہے کہ اب ہم اس کہانی کے اختتام تک پہنچ گئے ہیں‘۔

نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک گھنٹے دورانیے کے اس انٹرویو میں شعبان نے مزید کہا کہ خطرناک وقت گزر چکا ہے،’ شام میں جو کچھ بھی ہوا، ہم اسے ایک موقع میں بدلنا چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اب دمشق حکومت بالخصوص سیاسی حوالے سے کئی اہم تبدیلیاں لائے گی۔ شعبان نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلح لوگوں کے ساتھ خوشگواری کے ساتھ پیش نہیں آیا جا سکتا۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس کے رپورٹر کو شام میں کچھ گھنٹے رکنے کی اجازت دی گئی، جس دوران یہ انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔

No Flash Nahost Syrien Proteste

صدر بشار الاسد کی مشیر کے بقول جلد ہی شام میں حالات معمول پر آ جائیں گے

دوسری طرف شامی سکیورٹی فورسز حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف اپنا کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پیر کے روز بندرگاہی شہر بانیاس میں متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ پیر کو دن بھر فائرنگ کی آوازیں ہوا میں گونجتی رہیں۔

دریں اثناء جنوبی شہر درعا میں بھی مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری ہے۔ اقوام متحدہ نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شامی سکیورٹی فورسز اس کی امدادی ٹیموں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں سے درعا کا دیگرعلاقوں سے رابطہ کٹا ہوا ہے۔ اسی شہر سے حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ ذرائع ابلاغ کی رپوٹوں کے مطابق درعا، حمص، البیداء، بانیاس کے بعد اب انخل، داعیل اور نویٰ کے بڑے قصبات میں بھی ٹینک تعینات کردیے گئے ہیں۔

دریں اثناء یورپی یونین نے نے کہا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف طاقت کا ناجائز استعمال کرنے کے ذمہ دار تیرہ افراد کے خلاف پابندیوں کا اطلاق آج یعنی منگل سے شروع ہو جائے گا۔

انسانی حقوق کے سرکردہ کارکنان کے مطابق شام میں گزشتہ آٹھ ہفتوں سے جاری مظاہروں کے نتیجے میں کم ازکم 600 افراد ہلاک جبکہ 80 ہزار سے زائد گرفتار یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM