1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں جنگ بندی کے پہلے ہفتے سوا سو سے زائد ہلاکتیں

شام میں فائربندی کے معاہدے کے نفاذ کے پہلے ہفتے کے دوران ایسے علاقوں میں 135 افراد ہلاک ہوئے ہیں جہاں یہ جنگ بندی نافذ العمل ہے۔ ادھر شام امن مذاکرات کی بحالی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

Syrien Stadt Madaya Rot-Kreuz-Hilfskonvoi

شام میں جنگ بندی کے وقفے کے باوجود پہلے ہفتے کے دوران 135 افراد مارے گئے ہیں

خبر رساں ادارے روئٹرز نے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام میں جنگ بندی کے وقفے کے باوجود پہلے ہفتے کے دوران 135 افراد مارے گئے ہیں۔ آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان کے مطابق یہ تمام ہلاکتیں ایسے علاقوں میں ہوئی ہیں جہاں اس ڈیل پر عمل درآمد کا عہد کیا گیا تھا۔

DW.COM

روس اور امریکا کی ثالثی میں طے پانے والی اس ڈیل کا مقصد اعتدال پسند باغیوں اور شامی فورسز کے مابین لڑائی کو روکنا تھا تاکہ محصور شامیوں کو امدادی سامان کی فراہمی کو ممکن بناتے ہوئے امن مذاکرات کا نیا دور شروع کیا جا سکے۔

یہ امر اہم ہے کہ اس جنگ بندی کے دوران انتہا پسند گروہ داعش اور دیگر جہادی گروہوں کے خلاف کارروائیوں کو روکنے کے حوالے سے کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا تھا۔ ماسکو اور دمشق نے واضح کیا تھا کہ کچھ علاقوں میں فائربندی نافذ کی جائے گی جب کہ ایسے علاقوں میں عسکری مہم نہیں تھمے گی جہاں جہادی فعال ہیں۔

جنگ بندی شروع ہونے کے باوجود ہلاکتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ ناکام ہو سکتا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ وہ شام میں پائے دار قیام امن کے لیے کوششوں میں تیزی لائی جائے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اسٹیفن ڈے مستورا نے کہا ہے کہ امن مذاکرات کا سلسلہ آئندہ ہفتے سے شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ بدھ کے دن سے سفارت کار جنیوا پہنچنا شروع ہو جائیں گے، جس کے بعد باضابطہ مذاکرات شروع ہوں گے۔ قبل ازیں یہ مذاکرات پیر سے شروع ہونا طے پائے تھے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ان امن مذاکرات کو مؤخر کرنے کی انتظامی وجوہات تھیں جب کہ یہ اندازہ بھی لگانا مناسب تھا کہ شام میں جنگ بندی کی ڈیل کیا رخ اختیار کرتی ہے۔ مستورا کے بقول اس جنگ بندی کی کامیابی امن مذاکرات پر نہایت اچھے اثرات مرتب کرے گی۔

دمشق نواز لبنانی ٹیلی وژن المعیادین نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امن مذاکرات کا سلسلہ تیرہ مارچ سے شروع ہو گا۔ تاہم روئٹرز اس خبر کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ شام کی پانچ سالہ خانہ جنگی کے باعث اقوام متحدہ کے مطابق دو لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد شامی شہری ہلاک جب کہ لاکھوں کی تعداد میں مہاجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔

Griechenland Flüchtlinge an der Grenze zu Mazedonien Idomeni

شامی خانہ جنگی کی وجہ سے مہاجرین کا ایک برا بحران بھی پیدا ہو چکا ہے

آبزرویٹری کے مطابق جن علاقوں میں سیز فائر کا اطلاق نہیں ہوا ہے وہاں گزشتہ ہفتے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 552 ہے۔ یہ معاہدہ ستائیس فروری کو نافذ کیا گیا تھا۔

امریکا اور روس نے زور دیا ہے کہ شام میں قیام امن کے لیے اس فائر بندی کی ڈیل کا احترام انتہائی ضروری ہے۔ اس تناظر میں امریکی اور روسی وزرائے خارجہ نے ٹیلی فون پر بھی گفت گو کی ہے۔

امریکی اور روسی ماہرین بھی اس ڈیل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین نے بھی زور دیا ہے کہ اس ڈیل کی خلاف ورزیوں سے بچنا چاہیے۔