1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں جنگ بندی، ترکی پرامید نہیں

ترکی نے شام میں تجویز کردہ جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شام میں سرگرم کرد علیحدگی پسندوں کو نشانہ بناتا رہے گا۔ قبل ازیں صدر اسد نے اس معاہدے کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

ترکی نے کہا ہے کہ امریکا اور روس کی طرف سے شام میں جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق وہ زیادہ پرامید نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ شام میں کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف حملے جاری رکھے گا۔ ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان کرتلموس کا انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم جنگ بندی کے اس معاہدے کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن مجھے نہیں امید کہ وہاں موجود تمام فریقین اس پر عملدرآمد کریں گے۔‘‘

قبل ازیں دمشق حکومت نے کہا تھا کہ وہ امریکی اور روسی پلان کے مطابق رواں ہفتے کے اختتام پر اپنے تمام ’’فوجی آپریشن‘‘ معطل کرنے پر تیار ہے۔ تاہم اس تنازعے کے متعدد فریقین ہیں اور یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ اس پر مکمل عمل درآمد ممکن ہو سکے گا۔ منگل کے روز صدر اسد کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وہ روس کے ساتھ رابطے میں ہیں کہ النصرہ فرنٹ اور داعش کے علاوہ کن مزید گروپوں پر اس جنگ بندی کا اطلاق نہیں ہوگا اور وہ ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب پیر بائیس فروری کو امریکا اور روس کے مابین طے پانے والے اس معاہدے کو اقوام متحدہ نے شام میں مستحکم فائربندی کی جانب پہلا اہم قدم قرار دیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت شامی فوجی اور اس کے اتحادیوں سمیت حکومت مخالف باغیوں کو بھی ’ذاتی دفاع‘ کے لیے جائز طاقت کے استعمال کا حق تفویض کیا گیا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نکتے کے تحت شام میں مسلح تنازعے کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس منصوبے میں اسلامک اسٹیٹ، النصرہ فرنٹ اور ایسے دیگر مسلم عسکریت پسند گروپوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے، جو اقوام متحدہ کی دہشت گردی کی فہرست پر موجود ہیں۔

دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شام میں اسی طرح جنگ جاری رہی تو مکمل شام کو اسی حالت میں برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی معاہدہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا تو انہوں نے ’پلان بی‘ کے بارے میں بھی سوچ رکھا ہے۔

شام میں جاری اس خانہ جنگی کی وجہ سے ابھی تک وہاں دو لاکھ ستر ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔.