1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں جنگی جرائم کی تحقیقات بين الاقوامی فوجداری عدالت سے کرائی جائیں، فرانس

فرانس نے کہا ہے کہ وہ روس اور شامی حکومت کی طرف سے شام میں کیے جانے والے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع کرے گا۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں مارک ایرو نے اس خیال کا اظہار فرانس کے پبلک ریڈیو اسٹیشن کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔ ان کی طرف سے اس عزم کا اظہار اُس فرانسیسی قرارداد کو روس کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے بعد کیا گیا ہے جو شام میں خانہ جنگی رکوانے کے لیے پیش کی گئی تھی۔

ژاں مارک ایرو کا کہنا تھا، ’’یہ بمباری، اور میں نے بات ماسکو میں بھی کہی، جنگی جرائم ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو حلب میں پیش آنے والے واقعات میں ملوث ہیں، بشمول روسی رہنماؤں کے۔‘‘

فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حلب میں کی جانے والی روسی کارروائیوں کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرانس حلب کی آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ پرعزم ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ستمبر میں حلب کے ہسپتالوں پر ہونے والی بمباری کو جنگی جرائم کہہ کر پکارا تھا۔ اسی بمباری کے تناظر میں امریکا نے روس کے ساتھ شام میں فوجی تعاون ختم کر دیا تھا۔

Syrien Krieg - Kämpfe in Aleppo (Reuters/A. Ismail)

روس اور شام کے جنگی جہازوں نے حلب کے ان حصوں پر بمباری کا سلسلہ تیز کر رکھا ہے جو باغیوں کے قبضے میں ہیں

آج پیر 10 اکتوبر کو نشر ہونے والے انٹرویو میں ژاں مارک ایرو کا کہنا تھا، ’’بمباری کس نے کی۔ ان میں شامی بھی ہیں اور روسی بھی جو اپنے ایسے جدید ہتھیار استعمال کر رہے ہیں جو ان بنکرز میں بھی گھُس جاتے ہیں جہاں لوگ خود کو بچانے کے لیے پناہ لیے ہوتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ فرانس اب بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ذریعے یہ معاملہ اٹھانا چاہتا ہے تاکہ شام ميں مبينہ جنگی جرائم کی باقاعدہ تحقیقات کرائی جائیں۔

شامی باغیوں اور شامی حکومت کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی کوششیں گزشتہ ماہ ناکام ہونے کے بعد روس اور شام کے جنگی جہازوں نے حلب کے ان حصوں پر بمباری کا سلسلہ تیز کر رکھا ہے جو باغیوں کے قبضے میں ہیں۔