1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں تیس سے زائد شہری ہلاک، تنظیموں کا دعویٰ

شام میں فوج اور حکومت مخالفین کے درمیان تصادم شدت اختیار کر گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو روز میں شام میں تیس سے زائد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

default

انسانی حقوق کے علمبرداروں نے بتایا ہے کہ ملک کے وسط میں واقع شہر حمص میں اِس ویک اَینڈ پر ہونے والی جھڑپوں میں 30 سے زیادہ شہری مارے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت اشتعال دلا کر خانہ جنگی شروع کروانے کی کوششیں کر رہی ہے۔

لبنان کے ساتھ ملنے والی سرحد کے نزدیک واقع شامی شہر الزبدانی میں فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز کے تقریباً دو ہزار سپاہی اپنے ٹینکوں کے ساتھ جمع ہیں۔ حکومت مخالف عناصر کا کہنا ہے کہ اِس شہر میں گرفتاریاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔

Übergriffe auf die US-Botschaft in Damaskus NO FLASH

شامی حکومت اس عوامی بغاوت کو اسلامی انتہا پسندوں کے ساتھ منسلک کر رہی ہے

خیال رہے کہ شام میں عوامی احتجاج کے آغاز سے ہی حمص کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ دو ماہ قبل شامی فوج عوامی احتجاج کو کچلنے کے لیے اس شہر میں داخل ہوئی تھیں۔

شام میں صدر بشار الاسد کے گیارہ سالہ اقتدار کے خلاف مظاہرے اور عوامی تحریک جاری ہے۔ بین الاقوامی برادری بھی صدر اسد پر اصلاحات لانے اور اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، تاہم بشار الاسد اب تک اقتدار چھوڑنے پر راضی نہیں ہیں۔

شامی حکومت اس عوامی بغاوت کو اسلامی انتہا پسندوں کے ساتھ منسلک کر رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں، اور شامی حزب اختلاف شامی حکومت کے اس مؤقف کو اقتدار پر قابض رہنے کا ایک حربہ قرار دیتی ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM