1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں تعینات روسی فوج میں کمی کا سلسلہ شروع

روسی فوج کے اعلان کے مطابق شام میں متعین فوجی دستوں میں کمی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ شامی سمندری علاقے سے روس کا اکلوتا طیارہ بردار جنگی بحری جہاز سب سے پہلے روانہ ہونے کا بتایا گیا ہے۔

Admiral Kusnezow Russland Flugzeugträger (picture-alliance/dpa/Dover Marina)

روس کا طیارہ بردار جنگی بحری ایڈمرل کُزنیٹسوو

ماسکو سے روسی وزرت دفاع کے اعلان کے مطابق مسلح تنازعے کے شکار ملک شام میں متعین روسی فوج میں کمی کے پلان پر آج جمعہ، چھ جنوری سے عمل شروع ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں روس کا طیارہ بردار جنگی بحری ایڈمرل کُزنیٹسوو واس روانہ ہو گیا ہے۔ اس جنگی بحری جہاز کی فلیٹ میں چھوٹی جسامت کے ڈیسٹرائیر اور جنگی بحری جہاز بھی شامل ہیں۔

ماسکو سے وزارت دفاع کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ شام میں فوج کے حجم میں کمی کا فیصلہ روسی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر صدر ولادیمیر پوٹن کے ایک فیصلے کا نتیجہ ہے۔ روسی صدر کے فیصلے کا اعلان فوج  کےچیف آف جنرل اسٹاف جنرل والیری گیراسیموف نے کیا۔ یہ امر اہم ہے کہ شامی تنازعے میں روس نے واضح انداز میں شام کی سفارتی و جنگی محاذوں پر ہر ممکن مدد جاری رکھی ہے۔

Mobiles Langstreckenraketensystem S-300 (picture-alliance/dpa/D. Rogulin)

روسی میزائل شکن نظام S-300 اور S-400 شام میں نصب ہیں

 تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقی حلب پر حکومتی فوج کی کامیابی کے بعد دمشق حکومت اور باغیوں کے ساتھ فائربندی طے پانے پر روسی صدر سے فوج کے حجم میں کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔ ماسکو نے شامی باغیوں پر شدید فضائی حملوں کا سلسلہ ستمبر سن 2015 میں شروع کیا تھا۔ شام کے مسلح تنازعے میں شریک روس کے فضائی مشن کے دو طیارے تباہ بھی ہوئے ہیں۔ ایک کو ترک لڑاکا طیاروں نے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر نشانہ بنایا تھا جبکہ دوسرا بحیرہ روم میں گر کر تباہ ہوا۔ دونوں جنگی طیارے Su 33 طرز کے تھے۔

شام میں روسی فوج کے کمانڈر آندری کارٹاپولوف کا کہنا ہے کہ جنگی بحری جہاز کی تعیناتی کی وجہ مشرقی حلب کے قابض باغیوں کو پیچھے دھکیلنا تھا۔ کارٹاپولوف کے مطابق مشن کی کامیابی سے تکمیل ہو گئی ہے اور اب اُس کی واپسی کا وقت آ گیا ہے۔

روس کے سینیئر فوجی افسر کارٹاپولوف کے مطابق شام میں روس کا ایئر ڈیفنس نظام ابھی متعین ہے۔ روسی میزائل شکن نظام S-300 اور S-400 شامی شہر الاذقیہ کے ارگرد پھیلی پہاڑیوں پر نصب کیے گئے ہیں۔