1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں ترک فوج کا اب تک کا سب سے بڑا نقصان

شام کے شمالی علاقے الباب کے نواح میں داعش کے عسکریت پسندوں اور ترک فوجیوں کے مابین لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس لڑائی میں 14 ترک فوجی ہلاک جبکہ تینتیس زخمی ہو گئے ہیں۔ لڑائی میں 138 جہادی بھی مارے گئے ہیں۔

اس علاقے میں داعش کے عسکریت پسندوں کے خلاف ترکی کے حمایت یافتہ شامی جنگجو بھی برسر پیکار ہیں اور انہیں ترک فوجیوں کی حمایت حاصل ہے۔ چار ماہ پہلے ترکی نے شمالی شام میں ’فرات شیلڈ‘ نامی آپریشن شروع کیا تھا۔ تب سے اب تک شامی سرزمین پر ترک فوج کے لیے یہ سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔ اس لڑائی میں گھائل ہونے والے تینتیس ترک فوجیوں میں سے بھی متعدد کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

ترک فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ’’فرات شیلڈ آپریشن کے تحت الباب کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اس کا محاصرہ کیا جا چکا ہے۔‘‘ قبل ازیں فوج نے یہ بیان جاری کیا تھا کہ داعش کے خلاف لڑنے والے ترک حمایت یافتہ جنگجوؤں نے الباب کے مرکزی ہسپتال کے ارد گرد اہم حصوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ بدھ کے روز جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’ اس علاقے پر قبضہ ہونے کے ساتھ ہی الباب میں داعش کا غلبہ زیادہ حد تک ختم ہو جائے گا۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ داعش ترک فورسز اور ان کے حمایتی جنگجوؤں کو روکنے کے لیے خودکش حملہ آوروں کے ساتھ ساتھ بارود سے بھری گاڑیاں استعمال کر رہی ہے۔

ترک فورسز اس علاقے میں جاری آپریشن میں ایک ایسے وقت پر تیزی لائی ہیں، جب روس، ایران اور ترکی نے اعلان کیا ہے کہ وہ چھ سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نئے امن مذاکراتی عمل میں اپنا کردار ادا کرنےکے لیے تیار ہیں۔

ترک فورسز نے جب سے اپنی سرحد کے قریب شام میں کردوں اور داعش کے جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے، اس کے تقریبا تیس فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق الباب میں ابھی تک دو طرفہ شدید لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کے روز ترک جنگی طیاروں کے ذریعے داعش کے ساٹھ سے زائد ٹھکانوں کو نشانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

شام کے حالات و واقعات پر نگاہ رکھنے والے مبصر گروپ سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ترکی فضائیہ کی بمباری سے الباب میں سات عام شہری بھی مارے گئے ہیں۔ اس مبصر گروپ کے مطابق داعش نے فرات شیلڈ آپریشن میں شامل بیالیس فائٹرز کو ہلاک کیا ہے اور ان میں کم از کم دس ترک فوجی شامل ہیں۔

فرات شیلڈ آپریشن کا مرکزی مقصد ترک سرحد کے قریب داعش کو شکست دینا ہے لیکن انقرہ حکومت کرد ملیشیا ’وائی پی جی‘ کی پیش قدمی کو بھی روکنے کے لیے پرعزم ہے۔ ترک حکومت کرد فورس کو ایک دشمن کے طور پر دیکھتی ہے اور یہ بھی ترک سرحد کے قریب اپنے اثرو رسوخ میں اضافہ کرتی جا رہی ہے۔