1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں تازہ حملے، اٹھائیس شہری مارے گئے

سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا ہے کہ شام کے شمال مغربی علاقوں میں تازہ فضائی حملوں کے نتیجے میں کم ازکم اٹھائیس شہری مارے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ہلاک شدگان میں چار بچے بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ تازہ بمباری صوبے ادلب کے شہر اماناز میں جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات کی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ ترک سرحد سے متصل اس علاقے میں یہ کارروائی داعش کے ٹھکانوں پر کی گئی لیکن ہلاک شہری ہوئے۔

فتح کے قریب ہیں، شامی وزیر خارجہ

شامی فورسز کی دیرالزور میں کامیاب پیش قدمی

 شامی مہاجر بچوں کے ليے تعلیمی ادارے کے قیام کا اعلان

ویڈیو دیکھیے 01:41

حلب: معمول کی زندگی کی طرف لوٹتا ہوا

لندن میں قائم غیر سرکاری ادارے آبزرویٹری نے قبل ازیں بتایا تھا کہ ادلب کے صوبائی دارالحکومت سے بیس کلو میٹر دور واقع حرم نامی شہر میں بمباری کے نتیجے میں مبینہ طور پر بیس افراد ہلاک ہوئے۔

شام کی صورتحال پر گہری نگاہ رکھنے والے اس ادارے کے مطابق فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ نامزد کیے جانے والے ان ’محفوظ علاقوں‘ میں یہ بمباری شامی فضائیہ نے کی یا روسی طیاروں نے۔ روس، ترکی اور ایران نے ادلب کے کچھ علاقوں کو محفوظ قرار دیا تھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہاں کوئی فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اب ان علاقوں کی تعداد میں اضافے کی کوشش بھی جاری ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق ادلب کے ان علاقوں میں حالیہ کچھ دونوں کے دوران شامی فوج کی کارروائیوں میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے، جو داعش کے جہادیوں کے خلاف عسکری مہم میں شریک ہیں۔ چیرٹی ادارے ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مطابق اس تازہ فضائی کارروائیوں کی وجہ سے اس صوبے میں کئی ہسپتالوں کو بھی بند کرنا پڑ گیا ہے۔

ادلب کے ہمسائے میں واقع حمص صوبے میں جہادیوں کے حملوں میں اضافے کے بعد شامی فورسز نے حمص اور ادلب دونوں صوبوں میں اپنی کارروائیوں میں تیزی پیدا کی ہے۔ آبزرویٹری کے مطابق انیس ستمبر سے القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں نے جوابی حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ یہ جہادی ادلب صوبے کی زیادہ تر علاقوں پر قابض ہیں۔

عالمی طاقتوں کی کوشش ہے کہ شام میں قیام امن کی خاطر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اسی مقصد کی خاطر جہاں بات چیت کے ذریعے شامی خانہ کی کے خاتمے کی کوشش جاری ہے، وہیں جہادیوں کے خلاف ایکشن بھی جاری ہے۔ یاد رہے کہ شام میں سینز فائر کے معاہدوں کے علاوہ محفوظ قرار دیے جانے والے علاقوں میں بھی جہادیوں کو کوئی چھوٹ نہیں جاتی۔

DW.COM

Audios and videos on the topic