1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

NRS-Import

شام میں بڑے پیمانے پر مظاہرے، مزید آٹھ افراد ہلاک

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعہ کے روز مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں مزید آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔

default

انسانی حقوق کے کارکنوں اور عینی شاہدین کے مطابق صرف حمص شہر میں سکیورٹی فورسز نے جمعرات کی شب پانچ افراد کو ہلاک کیا، جبکہ جمعے کے روز ہونے والی ہلاکتیں حمص کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں میں مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی دن بھر جاری رہنے والی کارروائیوں میں ہوئیں۔ واضح رہے کہ حمص اس وقت سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کا مرکز بنا ہوا ہے۔

حمص کے رہائشیوں کے مطابق جمعرات کی شب سکیورٹی فورسز نے شہر کو ٹینکوں کے ذریعے گھیرے میں لے لیا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق جمعے کے روز لاکھوں افراد نے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور ملک میں جمہوریت کے حق میں مظاہرے کیے۔ شام کی قومی تنظیم برائے انسانی حقوق کے مطابق جمعے کے روز ہلاک ہونے والے چھ افراد حمص، دمشق اور ادلب میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔

مظاہرین ملک میں جمہوریت کا مطالبہ کر رہے ہیں

اس تنظیم کے مطابق رواں برس مارچ سے جاری حکومت مخالف تحریک میں اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 14 سو سے تجاوز کر چکی ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے دو خصوصی مشیروں نے شام میں جاری حکومتی کریک ڈاؤن کی ’آزادانہ اور غیرجانبدارانہ‘ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ بان کی مون کے خصوصی مشیران Francis Deng اور ایڈورڈ لُک کے مطابق،’شام میں کریک ڈاؤن اور تشدد کی شدت اشارہ کرتے ہیں کہ وہاں ممکنہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے اور اس کا سلسلہ جاری ہے۔‘

عالمی سطح پر بشارالاسد حکومت کے خلاف دباؤ میں شدید اضافہ ہوا ہے جبکہ بشار الاسد اور ان کی حکومت میں شامل بعض اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف یورپی یونین اور امریکی کی جانب سے سخت پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ مغربی ممالک یہ الزام بھی عائد کر رہے ہیں کہ ایران کی سخت مؤقف کی حامل حکومت شامی حکومت کی حمایت کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ شام میں سنی فرقے سے تعلق رکھنے والی اکثریت کے باوجود وہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے شیعہ خاندان کی حکومت ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : افسر اعوان

DW.COM