1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں ایک اور خود کُش حملہ: کم از کم 25 باغی ہلاک

آج جمعرات چھ اکتوبر کو شام اور ترکی کے درمیان ایک سرحدی گزر گاہ پر کیے گئے ایک خود کُش بم حملے میں کم از کم 25 شامی باغی ہلاک ہو گئے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شام کے ایک شمالی گاؤں اطمہ کے  بارڈر پر ایک شخص نے ترک حمایت یافتہ شامی باغیوں کے ایک ہجوم میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ حلب سے 40 کلومیٹر مغرب میں کیے گئے اس حملے میں 20 سے زائد شامی باغی زخمی بھی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کر لی ہے۔

اطمہ ایک ایسی گزرگاہ پر واقع ہے جسے شمالی شام کے باغیوں کے قبضے والے علاقے تک امداد اور ضروری اشیاء کی فراہمی کے لیے استعمال میں لایا جاتا رہا ہے۔ اسی گزرگاہ پر اگست میں بھی ایک خود کُش بم حملہ کیا گیا تھا، جس کی ذمہ داری ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے عسکریت پسندوں نے قبول کی تھی۔ اس حملے میں 32 شامی باغی ہلاک ہوئے تھے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس اور عینی شاہدین کے مطابق جمعرات کو کیے گئے خود کُش حملے کا نشانہ اُن شامی باغیوں کو بنایا گیا جن کا تعلق باغیوں کے اُن دھڑوں سے ہے جو ترک فوج کی پشت پناہی سے شام کے شمال مشرقی سرحدی علاقے میں برسرپیکار جہادی گروپوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

حلب سے مغرب کی طرف واقع گاؤں اطمہ کی گزرگاہ پر ہونے والے تازہ ترین خود کُش حملے کے ایک عینی شاہد کی طرف سے بھیجی جانے والی ایک فوٹو میں خون سے لت پت لاشیں دکھائی دے رہی ہیں۔ اُدھر دہشت گرد گروپ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے اس کارروائی کی ذمہ داری ایک آن لائن بیان میں قبول کی ہے۔

حملے کے عینی شاہد کے مطابق ہلاک ہونے والے باغیوں میں سے زیادہ تر کا تعلق فیلق الشام گروپ سے تھا جو ترک نواز دیگر دھڑوں کی جانب سے شامی علاقوں میں جاری ’انقرہ کی کارروائیوں‘ جنہیں ’فرات ڈھال‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، میں شانہ بشانہ شامل رہے ہیں۔ آبزرویٹری کے مطابق باغی اطمہ کی راہ گزر کو ترکی کے رستے شامی صوبے ادلب میں نقل و حرکت کے لیے بروئے کار لاتے ہیں، خاص طور سے اُن علاقوں تک پہنچنے کے لیے جہاں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔

عینی شاہدین اور باغی گروپوں کے ایک نمائندے کے مطابق اطمہ دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں باغیوں کے قبضے والے حلب کے مشرقی علاقے کی ایک ’سول عدالت‘ کے سربراہ شیخ خالد السید اور اُن کے ساتھ کام کرنے والے ایک دوسرے جج  بھی شامل ہیں۔