1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں اپوزیشن کے خلاف کارروائیوں میں مزید شدت

شامی اپوزیشن کے گڑھ حماہ میں رہائشی علاقوں پر ٹینکوں کی مسلسل گولہ باری کے باعث حقوق انسانی کے کارکنوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 85 تک جا پہنچی ہے جبکہ سلامتی کونسل میں شام پر ہنگامی صلاح و مشورہ کیا جا رہا ہے۔

ٹینک شامی شہر حماہ میں

ٹینک شامی شہر حماہ میں

سنی اکثریت کا حامل شہر حماہ گزشتہ دو روز سے ٹینکوں کی شدید گولہ باری کی زَد میں ہے اور اسد کے اقلیتی علوی مسلک کے غلبے کی حامل سکیورٹی فورسز پوری کوشش کر رہی ہیں کہ اس شہر میں صدر بشار الاسد کے خلاف مظاہروں کو کچل دیا جائے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ ٹیلی فون پر باتیں کرتے ہوئے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ہر دس سیکنڈ کے وقفے سے گولہ باری ہو رہی ہے۔ فون پر پس منظر میں گولہ باری کی آوازیں آ رہی تھیں۔

حماہ کے خلاف کارروائی نے 1982ء کے اُس دور کی یادیں تازہ کر دی ہیں، جب اسی شہر میں بشار الاسد کے والد حافظ الاسد نے اخوان المسلمون کی ایک مسلح بغاوت کو بری طرح سے کچل دیا تھا۔ تب کئی رہائشی علاقوں کو تہس نہس کر دیا گیا تھا اور ہزاروں انسان قتل کر دیے گئے تھے۔

کئی شامی فوجی حماہ کے شہریوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان پر گولی چلانے سے انکار کر رہے ہیں

کئی شامی فوجی حماہ کے شہریوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان پر گولی چلانے سے انکار کر رہے ہیں

ایک اور عینی شاہد نے روئٹرز کو بتایا تھا:’’کوئی بھی شہر سے باہر نہیں جا سکتا کیونکہ فوج اور الشبیحہ (اسد کی حامی ملیشیا) مشین گنوں سے اندھا دھند فائرنگ کر رہی ہے۔‘‘

تجزیہ نگاروں کے مطابق حماہ کے خلاف طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اسد نے اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کے خواہاں عناصر کے خلاف ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا ہے، جس سے واپسی کی کوئی صورت نہیں ہے۔ بیرونی دُنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ دمشق حکومت تبدیلی کے اُن مطالبات کے آگے نہیں جھکے گی، جو پوری عرب دُنیا میں کیے جا رہے ہیں۔ شامی عوام کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ملکی قیادت کشت و خون کا راستہ اختیار کرتے ہوئے بھی اقتدار سے چمٹی رہے گی۔

شامی فوج کے ٹینک حماہ شہر کے مرکزی حصے میں گشت کر رہے ہیں

شامی فوج کے ٹینک حماہ شہر کے مرکزی حصے میں گشت کر رہے ہیں

بیروت میں مقیم تجزیہ نگار رامی خوری نے روئٹرز کو بتایا:’’یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ حکومت لامحدود طاقت استعمال کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ بغاوت اور زیادہ زور پکڑ جائے گی۔‘‘

فوجی ٹینکوں نے دو ہفتے کے محاصرے کے بعد البو کمال نامی شہر پر بھی دھاوا بول دیا ہے جبکہ عراق کے سنی علاقوں کے ساتھ ملنے والے شامی صوبے دیر الزور کے خلاف بھی شامی فوجی کی کارروائیوں میں شدت آ گئی ہے اور وہاں ایک ہفتے کے کارروائی کے دوران کم از کم 29 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جہاں متعدد عرب ممالک بدستور خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، وہاں ہمسایہ ترکی کے صدر عبداللہ گل نے کہا ہے کہ شہریوں کے خلاف اتنے بھاری ہتھیاروں کے استعمال کی فوٹیج دیکھ کر اُنہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔

یورپی یونین نے شامی قیادت کے خلاف مزید پابندیاں نافذ کر دی ہیں جبکہ عالمی سلامتی کونسل میں ایک ہنگامی اجلاس میں شام کے حالات پر تبادلہء خیال کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس