1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام میں امن سے پہلے عبوری دور میں اسد کی شمولیت ناممکن، ترکی

ترکی نے کہا ہے کہ شامی تنازعے کے خاتمے اور حتمی قیام امن سے پہلے کسی بھی عبوری حل میں شامی صدر بشار الاسد کی شمولیت ناممکن ہو گی اور انقرہ حکومت ایسے کسی بھی سیاسی امکان کو قبول نہیں کرے گی۔

Syrien Aleppo nach der Kapitulation der Rebellen (picture-alliance/dpa/TASS/T. Abdullayev)

کئی سالہ خانہ جنگی سے تقریباﹰ پورا شام ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے

استنبول سے بدھ اٹھائیس دسمبر کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے آج کہا کہ شامی تنازعے کے کسی عبوری اور قلیل المدتی تصفیے میں بھی موجودہ صدر بشار الاسد کا شامل کیا جانا ممکن نہیں ہو گا۔

مولود چاوش اولو نے کہا کہ بین الاقوامی سیاسی اور سفارتی کوششوں سے اگر ایسا کوئی حل نکالنے کی کوشش کی بھی گئی، تو شامی اپوزیشن بشار الاسد کے آئندہ بھی اقتدار میں رہنے کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔

وزیر خارجہ چاوش اولو نے صحافیوں کو بتایا کہ ترکی نے شام کی خونریز خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے فائر بندی سے متعلق ایک معاہدے کی دستاویز بھی تیار کر لی ہے۔ ساتھ ہی ترکی کے سرکاری میڈیا نے بھی آج بتایا کہ ترکی اور روس کے مابین ایک ایسی تجویز پر اتفاق رائے بھی ہو گیا ہے، جس کا مقصد شام میں ایک عمومی جنگ بندی معاہدے کا حصول ہو گا۔

اسی دوران شام میں جنگ بندی معاہدے سے متعلق ترکی سے ملنے والی ان نئی رپورٹوں کے برعکس ماسکو میں کریملن کی طرف سے آج ہی یہ کہا گیا کہ ماسکو ترک سرکاری نیوز ایجنسی انادولو کی ان رپورٹوں کی تصدیق نہیں کر سکتا کہ شام میں عام جنگ بندی سے متعلق ترکی اور روس کے مابین کوئی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

Syrien Evakuierung aus Aleppo (picture-alliance/Photoshot/A. Safarjalani)

شامی عوام کو کئی برسوں سے خونریز خانہ جنگی کا سامنا ہے

Russland Treffen zwischen Russland, Iran und Türkei in Moskau (picture-alliance/dpa/M. Shipenkov)

ترک وزیر خارجہ چاوش اولو، بائیں، روسی ہم منصب لاوروف کے ساتھ

کریملن کے ترجمان دیمیتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا، ’’فی الحال کافی معلومات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ شام میں سیزفائر کے بارے میں انقرہ اور ماسکو کے مابین کوئی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔‘‘

خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق کریملن کے ترجمان پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا، ’’ہم اپنے ترک ساتھیوں کے ساتھ ان ممکنہ امن مذاکرات کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے مسلسل رابطے میں ہیں، جن کے آستانہ میں انعقاد کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘‘

آستانہ میں ممکنہ امن مذاکرات سے کریملن کے ترجمان کی مراد وہ امن بات چیت ہے، جس کے روس شامی صدر بشار الاسد کے ایک قریبی حلیف ملک کے طور پر قزاقستان میں انعقاد کی کوششیں کر رہا ہے۔ پیسکوف نے کہا، ’’یہ جملہ کاوشیں شامی تنازعے کا ایک پرامن اور دیرپا سیاسی حل نکالنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔‘‘

شامی تنازعے سے متعلق ترکی کے امریکی اور مغربی دنیا کی پالیسیوں سے عدم اطمینان ہی کے پس منظر میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ابھی کل منگل کے روز کہا تھا کہ انقرہ شام سے متعلق امریکی اور مغربی حکمت عملی پر اس لیے نالاں ہے کہ یہ پالیسیاں محض ’توڑ دیے گئے وعدوں پر مبنی‘ ہیں۔

DW.COM