شام ميں مہاجر کيمپ پر داعش کا حملہ، درجنوں ہلاک | مہاجرین کا بحران | DW | 02.05.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شام ميں مہاجر کيمپ پر داعش کا حملہ، درجنوں ہلاک

شام اور عراق کی سرحد پر شامی حدود ميں واقع ايک مہاجر کيمپ پر ایک حملے ميں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہيں۔ شامی خانہ جنگی پر نظر رکھنے والے ايک نگران گروپ کے مطابق يہ حملہ مبينہ طور پر ’اسلامک اسٹيٹ‘ کے جنگجوؤں نے کيا۔

لندن سے سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس کے سربراہ رامی عبد الرحمان نے بتايا کہ صوبہ الحسکہ ميں قائم ايک مہاجر کيمپ کے اندر اور باہر کم از کم پانچ خود کش بمباروں نے خود کو اڑا ليا، جس کے نتيجے ميں بتيس افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ پير اور منگل کی درميانی رات تقريباً صبح چار بجے کيا گيا۔ رپورٹوں کے مطابق اس حملے ميں کم از کم تيس افراد زخمی بھی ہوئے ہيں۔

اس حملے ميں جس مہاجر کيمپ کو نشانہ بنايا گيا، اس ميں تين سو مہاجر خاندان قيام پذير ہيں۔ کيمپ ميں موجود مہاجرين الحسکہ ميں کُرد عرب اتحاد ’شامی ڈيموکريٹک فورسز‘ کے زير کنٹرول علاقے کی طرف بڑھنے کے منتظر ہيں۔ یہ حملہ ايک ايسے وقت کيا گيا، جب شامی ڈيموکريٹک فورسز طبقہ نامی شہر ميں ’اسلامک اسٹيٹ‘ کے جنگجوؤں کے خلاف برسرپيکار ہيں۔ ان کی یہ جنگ جہاديوں کے گڑھ الرقہ پر چڑھائی کی ہی ايک کڑی ہے۔

کُرد ہلال احمر کے پريس آفيسر کمال ديرباس کے بقول حملے ميں ہلاک ہونے والے شہريوں کی تعداد لگ بھگ بائيس ہے اور ان کی آخری رسومات الھول شہر ميں ادا کی جائيں گی۔ سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس کے سربراہ رامی عبد الرحمان نے بتايا کہ حملے کے فوری بعد ’اسلامک اسٹيٹ‘ کے جنگجوؤں اور شامی ڈيموکريٹک فورسز کے مابين مسلح تصادم شروع ہو گيا اور يہ بھی امکان ہے کہ چند لاشيں ان کے اہلکاروں کی بھی ہوں۔

اس حملے ميں ہلاک ہونے والے اکيس افراد بے گھر شامی يا عراقی پناہ گزين تھے۔ ايسے حملے ايک مرتبہ پھر اس بات کی نشاندہی کرتے ہيں کہ شام اور عراق ميں ايسی عارضی رہائش گاہوں ميں گزر بسر کرنے والوں کو کس قسم کے حالات و خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

DW.COM