1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام ميں عيد پر بھی مظاہرے، ہلاکتيں

شام ميں آج منگل کوعيد الفطر کےدن ملک بھر ميں حکومت کے خلاف بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہيں۔ حکومت حسب سابق مظاہرين کے خلاف بے دردی سے طاقت استعمال کر رہی ہے۔

حمص ميں ٹينک

حمص ميں ٹينک

 يورپی يونين کی امور خارجہ کی نگران عہدیدار کيتھرين ايشٹن نے صدر بشار الاسد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مخالفين پر تشدد بند کر ديں۔ يونين نے شام سے تيل کی درآمدات پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

عيد الفطر کے پہلے دن شام ميں سکيورٹی فورسز نے نماز عيد کے بعد صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے والے ہزاروں افراد پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم سات مظاہرين ہلاک ہو گئے۔ حکومت مخالف تحريک کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سکيورٹی فورسز نے جنوبی شہر درعا، وسطی شہر حمص اور دارالحکومت دمشق ميں نماز عيد کے بعد مظاہرين پر فائرنگ کی۔ درعا ميں مظاہرين کے ايک احتجاجی بينر پر لکھا تھا: ’’عيد تب ہو گی جب موجودہ حکومت ختم ہو جائے گی۔‘‘

شام کی صورتحال پر قاہرہ ميں عرب ليگ کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس

شام کی صورتحال پر قاہرہ ميں عرب ليگ کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس

اسد حکومت کے خلاف یہ تحريک پانچ ماہ پہلے درعا کے شہر ہی سے شروع ہوئی تھی۔

مقامی رابطہ کميٹيوں کا کہنا ہے کہ آج چھ مظاہرين درعا میں اور ايک حمص ميں سکيورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔ آج اسلامی مہینے شوال کے پہلے روز بہت سے شامی شہريوں نے اپنے اُن عزيزوں کی قبروں پر فاتحہ بھی پڑھی، جو پانچ ماہ سے جاری حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے دوران اب تک ہلاک ہو چکے ہيں۔

شامی حکومت کے ایک جلاوطن ناقد اور انسانی حقوق کی قومی تنظيم کے سربراہ عمار القرابی نے کہا ہے کہ مارچ کے مہینے سے جاری عوامی مظاہروں ميں اب تک کم از کم  تین ہزار ایک سو افراد ہلاک مارے جا چکے ہیں۔ صرف کل پير کے روز مارے جانے والوں کی تعداد 18 رہی تھی۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ دمشق حکومت کی وفادار ايک ملسح مليشيا کے ارکان بھی مظاہرين پر حملے کر رہے ہیں۔

شامی حکومت نے ملک میں ميڈيا پر کئی طرح کی پابندياں لگا رکھی ہيں اور غير ملکی صحافيوں کو بھی ملک سے نکالا جا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عینی شاہدين کی اطلاعات کی تصديق تقريباً ناممکن ہو گئی ہے۔

حمص ميں شامی حکومت کے خلاف مظاہرہ

حمص ميں شامی حکومت کے خلاف مظاہرہ

شامی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں خونريزی کی وجہ مسلح دہشت گرد ہيں، جو اب تک پوليس اور فوج کے قریب 500 اہلکاروں کو ہلاک کر چکے ہيں۔ حکومت نے کئی سرکاری فوجيوں کے باغيوں کے ساتھ مل جانے کی بھی ترديد کی ہے۔ شام کے زيادہ تر فوجی ملکی آبادی کی سنی اکثريت سے تعلق رکھتے ہيں، جو صدر اسد کے چھوٹے بھائی ماہر کی سربراہی میں زیادہ تر اقليتی علوی فرقے کے اعلیٰ افسروں کے ماتحت ہيں۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

 

DW.COM