1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام : مظاہرین پر براہ راست فائرنگ، 32 افراد ہلاک

شام میں سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں کم ازکم 32 مظاہرین ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ جمعہ کو ملک بھر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے صدر بشار الاسد کے مستعفی ہونے کے لیے ’یوم آزادی‘ منایا۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز نے شام میں موجود انسانی حقوق کے سرکردہ کارکنان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام بھر میں ہوئے ان مظاہروں کو کچلنے کے لیے حکومتی فورسز نے براہ راست فائرنگ کی اور آنسو گیس کے گولے بھی برسائے۔

گزشتہ روز بعد از نماز جمعہ وسیع پیمانے پر مظاہروں کا اہتمام کیا گیا۔ اس دوران مظاہرین نے ’آزادی، آزادی‘ کے نعرے بلند کیے اور صدر بشار الاسد کے خلاف نعرے بازی کی۔ شام میں یہ تازہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے، جب جمعرات کو امریکی صدر باراک اوباما نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک کے لیے اپنا نیا وژن بیان کرتے ہوئے بشار الاسد پر زور دیا تھا کہ اگر وہ اصلاحات عمل میں نہیں لاتے تو انہیں اقتدار سے الگ ہو جانا چاہیے۔

شام بھر میں ہوئے اس حکومت مخالف احتجاج کے دوران مظاہرین نے بڑے بڑے بینر اٹھا رکھے تھے، جن پر تحریر تھا کہ وہ بشار الاسد کے وعدوں پر یقین نہیں رکھتے اور ٹینکوں سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔ عینی شاہدین کے مطابق دمشق، حلب، حمص، بانیاس، لازقیہ اور معرتہ النعمان کے علاوہ دیگر کئی شہروں میں بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر آئی۔

Syrien Grenze Militär Mai 2011

شامی حکومت کی طرف سے مظاہرین پر کیے گئے کریک ڈاؤن پر عالمی برداری نے مذمت کی ہے

شام میں دو ماہ قبل جب حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے تھے، تو وہاں غیر ملکی صحافیوں کے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس لیے وہاں کے حالات کے بارے میں موصول ہونے والی خبروں اور اطلاعات کے مستند ہونے کے بارے میں شکوک پائے جاتے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل رازان زیتون نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ جمعہ کو معرتہ النعمان میں تیرہ افراد اس وقت مارے گئے، جب ٹینکوں میں موجود سپاہیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کی۔ دیگر اطلاعات کے مطابق حمص میں بھی سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ایک پندرہ سالہ لڑکے سمیت کل گیارہ افراد جان بحق ہو گئے۔

انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق شام میں گزشتہ دو ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں کم ازکم 831 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس دوران ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

دوسری طرف دمشق حکومت کے بقول تشدد کے زیادہ تر واقعات کے ذمہ دار ایسے مسلح گروہ ہیں، جنہیں غیر ملکی امداد کے ساتھ اسلامی جنگجوؤں کی حمایت حاصل ہے۔ شامی حکام کے مطابق ان مظاہروں کے نتیجے میں ان کے 120 سے زائد سپاہی ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات