1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام مسلسل زيادہ تنہا ہوتا جا رہا ہے

شام ميں حکومت کے مخالفين پر ٹينکوں سے مسلح دستوں کی يلغار اور بڑی تعداد ميں ہلاکتوں پر عالمی تنقيد کے باوجود شامی حکومت کے رويے ميں کوئی تبديلی نہيں آئی ہے۔ بشار الاسد ہر قيمت پر اپنے ا اقتدار کو قائم رکھنا چاہتے ہيں۔

ترک وزير خارجہ احمد داوُتوگلو اور شامی صدر بشارا لاسد

ترک وزير خارجہ احمد داوُتوگلو اور شامی صدر بشارا لاسد

شام پر عالمی دباؤ ميں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ ملک ميں جاری مظاہروں کو کچلنے کے ليے وحشيانہ طاقت کا استعمال بند کر دے۔ ليکن اس کے باوجود شامی صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ بقول ان کے ’دہشت گرد گروپوں‘ کے خلاف جنگ مسلسل جاری رکھی جائے گی۔

کل ترکی کے وزير اعظم رجب طيب ايردوآن نے کہا کہ مارچ کے وسط سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کو بے دردی سے کچلنے پر شامی حکومت کے ساتھ ترکی کا پيمانہء صبر لبريز ہو چکا ہے۔ ترک وزير خارجہ احمد داوُتوگلو نے کل منگل کو شام کا دورہ کيا جس ميں انہوں نے خونريزی بند کرنے اور جمہوری اصلاحات پر زور ديا۔ مصری وزير خارجہ محمد امر نے کہا ہے کہ شام ميں تشدد فوری طور پر بند ہونا چاہيے۔ اُنہوں نے خبردار کيا کہ ملک ايک ايسے نقطے کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہيں ہوگی۔

شام ميں احتجاجی مظاہرے

شام ميں احتجاجی مظاہرے

روسی وزير خارجہ لاوروف نے شامی وزير خارجہ وليد معلم سے ٹيليفون پر بات کی، جس ميں اُنہوں نے روس کا يہ مطالبہ دہرايا کہ تشدد فوراً ختم کرکے گہری نوعيت کی سياسی اصلاحات کی جائيں۔ امريکی وزارت خارجہ کی ايک ترجمان نے کہا کہ يہ افسوسناک بات ہے کہ شامی صدر اسد عالمی برادری کی بڑھتی ہوئی تشويش پر کوئی توجہ نہيں دے رہے ہيں۔

خليجی تعاون کونسل کے ممالک سعودی عرب، کويت اور بحرين نے صلاح مشوروں کے ليے شام سے اپنے سفراء واپس بلا ليے ہيں۔ کويت ميں آج شامی سفارتخانے کے سامنے ايک مظاہرے کے دوران بشار الاسد کی حکومت کو ظالم اور جابر کہا گيا اور ايران کی طرف سے اسد حکومت کی حمايت پر بھی شديد تنقيد کی گئی۔ سعودی عرب کی انسانی حقوق کی سوسائٹی کے صدر القحطانی نے کہا ہے کہ شامی حکومت نے درجنوں سعودی شہريوں کو گرفتار کر ليا ہے۔ شام موسم گرما کی چھٹياں منانے کے ليے سعوديوں کا محبوب ترين ملک ہے۔

شامی صدر اسد

شامی صدر اسد

شام کی آبادی کی اکثريت سنی ہے ليکن چار عشروں سے اقتدارپر اسد خاندان قابض ہے جس سے طاقت اقليتی علوی شيعہ فرقے کے ہاتھوں ميں مرکوز ہے۔

تجزيہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ شامی حکومت کے دن گنے جا چکے ہيں ليکن وہ اپنے مخالفين کو سختی سے کچلنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ ليکن اُن کا يہ بھی کہنا ہے کہ شامی حکومت پر داخلی دباؤ ميں اضافہ ہوگا اور اسی کے ہاتھوں اُس کا خاتمہ ہوگا۔ شام عالمی منظر پر مسلسل زيادہ تنہا ہوتا جا رہا ہے اور جب وہ مکمل طور پر تنہا رہ جائے گا اور ايران کے سوا اُس کا کوئی اور حامی باقی نہيں رہ جائے گا، تو پھربشارالاسد کو مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ ڈھونڈنا پڑے گا۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: امجد علی

DW.COM