1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام: مزید شہروں میں ٹینک داخل

عرب ملک شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے مخالفین کی تلاش میں حکومتی سکیورٹی فورسز ٹینکوں سمیت مزید کئی شہروں میں داخل ہوگئی ہے۔

default

شام کا فوجی ٹینک، درعا میں

بشار الاسد حکومت کی جانب سے مخالفین کو دبانے کے لیے شام کے وسطی شہر حمص کے دو اہم نواحی علاقوں میں بھی ٹینک داخل کر دیے گئے ہیں۔ باب سباع اور باب امر میں فوجی ٹینک آدھی رات کے وقت تعینات کیے گئے۔ انسانی حقوق کے ایک کارکن کے مطابق حمص میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ اور شیلنگ سے ایک بارہ سالہ بچہ ہلاک ہوگیا ہے۔

اسی طرح ملک کے جنوبی شہر درعا کی ایک نواحی بستی طفس میں بھی آٹھ ٹینک تعینات کرنے کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق سکیورٹی فورسز ٹینکوں سمیت 30 ہزار آبادی والے اس قصبے میں علی الصبح داخل ہوئیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی آواز بھی سنی گئی، مزید یہ کہ سکیورٹی اہلکار گھروں میں داخل ہوکر نوجوانوں کو گرفتار کررہے ہیں۔

Syrien Banias Proteste Demonstrationen

ایک شامی شہر کے مظاہرے میں اٹھایا گیا پوسٹر

دوسری طرف حکومت مخالفین نے مظاہروں کے سات ہفتوں بعد پہلی مرتبہ باقاعدہ طور پر اپنے تمام مطالبات پیش کیے ہیں۔ سماجی ویب سائٹ فیس بک پر شامی انقلاب2011ء کے نام سے شائع ہونے والے مطالبات میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کے خاتمے، سیاسی آزادی، جمہوری اقدار کے فروغ اور اگلے چھ ماہ کے دوران نئے انتخابات کرانے کے ساتھ ساتھ صدر بشارالاسد سے فوری طور پر حکومت سے علیحدہ ہونے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

ہفتے کے روز بندرگاہی شہر بانیاس میں بھی ٹینک پہنچائے گئے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے بتایا گیا کہ ہفتہ کے روز شامی فوجوں کی جانب سے شہر بانیاس میں چھ شہریوں کو ہلاک کردیا گیا۔ ان تنظیموں کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار خواتین شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہفتے کے روز بانیاس کے نواح میں ساحلی سڑک پر حکومت مخالف خواتین کے ایک چھوٹے اجتماع پر فورسز کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں یہ خواتین ہلاک ہوئیں۔

شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مارچ کے وسط میں مظاہرے شروع کیے گئے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان مظاہروں کے دوران اب تک 800 کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ حکومت مخالف تحریک میں اب تک ہزاروں افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس