1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام: ’مزید بیس افراد ہلاک‘

شامی حزب اختلاف اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق شام میں حکومتی سکیورٹی فورسز نے مزید بیس افراد کو ہلا ک کر دیا ہے۔ جمعہ کو بھی ہزاروں افراد نے حکومت کے خلاف مظاہرے کیے۔

default

جمعہ کے روز بھی ہزاروں کی تعداد میں حکومت مخالف افراد نے صدر بشارالاسد کے خلاف مظاہرے کیے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حکومت فورسز کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں کم از کم بیس افراد کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔

نیشنل آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس کے مطابق شامی حکومت نے پر امن مظاہرین پر تشدد کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین کو گرفتار بھی کیا۔

خیال رہے کہ کئی ماہ سے شام میں صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے لیے مظاہرے ہو رہے ہیں، جن سے حکومت آہنی ہاتھ سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری اس حکومتی تشدد کی شدید مذمت کر رہی ہے۔ شامی صدر الاسد پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑ کر جمہوری اور معاشی اصلاحات کریں۔

Syrien Proteste Mai 2011 NO FLASH

جائزوں کے مطابق شام میں ایک ہزار آٹھ سو اٹھاسی افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک ہزار پانچ سو انیس عام شہری ہیں

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک پر ’شامی انقلاب‘ نامی گروپ نے جمعہ کے مظاہروں کی کال دی تھی۔ اس کال کا مقصد بین الاقوامی برادری کی توجہ شام کی صورت حال کی جانب مبذول کرانا بھی تھا جیسا کہ فیس بک پر حزب اختلاف کے ایک رکن کے اس جملے سے معلوم ہوتا ہے: ’’ آزادی کے علم بردارو، تم کہاں ہو؟ تمھاری خاموشی کی انتہا ہو چکی ہے۔ یہ خاموشی ہمارے سینوں میں گولی کی طرح پیوست ہو رہی ہے۔‘‘

مارچ میں شروع ہونے والے ان مظاہروں میں اب تک جائزوں کے مطابق ایک ہزار آٹھ سو اٹھاسی افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک ہزار پانچ سو انیس عام شہری ہیں اور تین سو انہتر کا تعلق سکیورٹی فورسز سے بتایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حکومت بارہ ہزار کے قریب افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ شام میں جاری کشیدگی کی وجہ سے ہزاروں افراد ملک سے نقل مکانی کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

دوسری جانب شامی تارکین وطن اور جلا وطن ر ہنماؤں نے امید ظاہر کی ہے کہ بشار الاسد کے مطلق العنان اقتدار کا خاتمہ قریب ہو چکا ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM