1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام: محصور علاقوں تک انسانی امداد کی فوری فراہمی پر اتفاق

دنیا کی بڑی طاقتوں کے مابین شام میں ایک ہفتے کے دوران فائر بندی اور محصورعلاقوں میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فوری فراہمی پر اتفاق ہو گیا ہے۔

جرمنی کے جنوبی صوبے بویریا کے دارالحکومت میونخ میں شامی رابطہ گروپ کے اجلاس میں شامی امن مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کے لیے امریکا، روس اور ایک درجن سے زائد دیگر اقوام نے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے عزم کا اظہار کیا تاہم بحران زدہ عرب ملک شام میں مکمل فائر بندی یا روس کی بمباری کے خاتمے پر کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے میں یہ طاقتیں ناکام رہیں۔

ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس امر کا اعتراف کیا کہ میونخ اجلاس میں سامنے آنے والے وعدوں کی حیثیت کاغذی سے زیادہ کچھ نہیں۔ کیری کا کہنا تھا،’’ہمیں شام کے میدان جنگ میں آئندہ دنوں میں عملی اقدامات کی ضرورت ہے، وہاں سیاسی تبدیلی کے بغیر امن کا قیام ناممکن ہے۔‘‘

روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف کا ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دشمنی اور جنگ کا خاتمہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ اور ’النصرہ فرنٹ‘ پر لاگو نہیں ہوتا۔ یہ تنظیم القاعدہ سے منسلک ہے اور ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے عسکریت پسندوں نے عراق اور شام کے زیادہ تر علاقوں کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ لاوروف کے بقول، ’’ہماری فضائی فورسز ان تنظیموں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔‘‘

Syrien Lage in Aleppo

شام میں پانچ سالہ جنگ نے مہاجرین کے ایک بڑے بحران کو جنم دیا ہے

امریکا اور یورپی اتحادیوں نے کہا ہے کہ روسی حملوں کا ہدف مغرب نواز وہ اپوزیشن گروپ بھی بنے ہیں جو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اس کے لیے بر سرپیکار ہیں۔

لاوروف کا کہنا ہے کہ شامی امن مذاکرات کی بحالی جلد از جلد جنیوا میں ہونی چاہیے اور ان مذاکرات میں شام کے تمام اپوزیشن گروپوں کو شرکت کرنی چاہیے۔

اُدھربرطانوی وزیر خارجہ فلپ ہمُنڈ نے کہا ہے کہ شام میں جنگ کا خاتمہ صرف اُس وقت ممکن ہے جب روس شامی فورسز کی پشت پناہی کے لیے اپوزیشن فورسز پر فضائی حملے اور اُن پر چڑھائی کا سلسلہ بند کرے۔

سفارتکاروں نے اس امر سے خبردار کیا ہے کہ روس کسی طور بھی بشارالاسد کو شامی حکومت سے برخاست کرنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کر رہا ہے اور وہ شامی فورسز کے ساتھ مل کر اس جنگ میں عسکری فتح کی کوشش کر رہا ہے۔

Syrien Russischer Bomber wirft Bombe ab

مغربی طاقتیں شام میں روسی فضائی کارروائیوں کی سخت مخالفت کر رہی ہیں

روسی وزیر اعظم دیمتری میدویدیف نے جمعرات 11 فروری کو ایک بیان میں شامی جنگ کو ایک لامتناہی تنازعے کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر بڑی طاقتیں اس پانچ سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ناکام ہو جاتی ہیں تو یہ صورتحال ایک عالمی جنگ کی سی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ شام کا بحران چار لاکھ سے زائد انسانوں کی ہلاکت، دہشت گرد گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو مضبوط بنانے کے علاوہ دنیا میں مہاجرین کے ایک بڑے بحران کو جنم دینے کا باعث بنی ہے۔

شامی حزب اختلاف کے گروپ نے عالمی طاقتوں کی طرف سے ایک ہفتے کے دوران شام میں فائر بندی اور محصورعلاقوں میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فوری فراہمی کی منصوبہ بندی کا خیر مقدم کیا ہے تاہم اس گروپ نے اس امر پر زور دیا ہے کہ بڑی طاقتوں کے مابین اس بارے میں ہونے والے اتفاق کو جنیوا میں حکومتی نمائندوں کی بات چیت سے پہلے پہلے مؤثر بنایا جانا چاہیے۔

DW.COM